The news is by your side.

Advertisement

دو بنیادی باتوں پر یقین رکھنے والی 100 سالہ خاتون نے کرونا کو شکست دینے میں‌ کامیاب

جکارتہ: انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے تعلق رکھنے والی 100 سالہ خاتون نے اپنے عزم اور یقین سے کرونا وائرس کو شکست دے دی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے مشرقی صوبے جاوا کے شہر سورابایا سے تعلق رکھنے والی  ’کامتیم‘ نامی خاتون کرونا وائرس سے متاثر ہوئی تھیں۔

ڈاکٹر کو خدشہ تھا کہ معمری کی وجہ سے خاتون کی طبیعت اب سنبھل نہیں سکے گی مگر کامتیم اسپتال کے عملے کو بس ایک ہی بات بولتی تھیں کہ وہ کرونا سے جلد صحت یاب ہوکر گھر چلی جائیں گی۔

اسپتال میں ایک ماہ  تک زیرعلاج رہنے والی خاتون کی درمیان میں طبیعت بہت زیادہ خراب بھی ہوئی مگر انہیں وینٹی لینٹر پر منتقل کرنے کی نوبت پیش نہیں آئی۔

مزید پڑھیں: بھارت : ضعیف خاتون نے کرونا وائرس کو شکست دے دی

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ چونکہ کرونا وائرس کی نئی قسم بڑی عمر کے افراد کے لیے خطرناک ہے، اس لیے ہمیں ایک ڈر تھا مگر ہم نے اپنا فرض ادا کیا اور مریضہ کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے۔

خاتون کی طبیعت بہتر ہونے کے بعد اُن کا کرونا کی تشخیص کا ٹیسٹ کرایا گیا تو رپورٹ میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ انہوں نے وائرس کو شکست دے دی ہے۔

جاوا صوبے کے گورنر نے معمر مریضہ کے صحت یاب ہونے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’کامیتم کے صحت یاب ہونے سے دیگر مریضوں کو حوصلہ ملے گا اور اُن کے اندر پیدا ہونے والی مایوسی ختم ہوجائے گی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ کامیتم کو دیکھ کر دیگر مریضوں میں بھی ایک امید پیدا ہوگی جو اُن کی صحت یابی کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 101 سالہ خاتون نے بھی کروناوائرس کو شکست دے دی

معمر خاتون کی بہو کا کہنا ہے کہ ’اُن کی ساس کے صحت یاب ہونے کی دو بنیادی وجوہات ہیں، پہلی نظم و ضبط اور دوسرا شکست دینے کا عزم، ان ہی دو باتوں نے بیماری کے خلاف مزاحمت کو بڑھایا‘۔

ڈاکٹرز اور اسپتال کے دیگر عملے نے کامیتم کو بہادر خاتون قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ’جب ہمیں کوئی امید نظر نہیں آتی تھی تب بھی کامیتم ایک ہی بات کہتی تھیں کہ خدا نے چاہا تو وہ جلد صحت یاب ہوجائیں گی‘۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں