site
stats
خواتین

مردوں سے دوری لمبی عمر کا راز: 109 سالہ خاتون کا دعویٰ

دنیا بھر میں مختلف جان لیوا امراض کے پھیلاؤ اور قدرتی آفات کے باوجود ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اپنی عمر کی سینچری مکمل کرچکے ہوں۔ اب ایسی ہی ایک اور 109 سالہ خاتون منظر عام پر آئی ہیں اور انہوں نے اپنی طویل عمر کا راز بتا کر سب کو حیران کردیا۔

اسکاٹ لینڈ کی 109 سالہ جیسی گیلن جیسے ہی منظر عام پر آئیں تو میڈیا ان کی لمبی عمر کا راز جاننے کے لیے ان کی طرف دوڑ پڑا، اور ان کے جواب نے سب کو حیران کردیا۔

ان کے مطابق ان کی طویل عمر کے 2 بنیادی راز ہیں۔ ایک ہر صبح گرم دلیے کا پیالہ، اور دوسرا مردوں سے مکمل دوری۔

جیسی کا کہنا تھا کہ مرد جس قدر اہمیت رکھتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ وہ پریشانیوں کا سبب بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ساری عمر مردوں سے دور رہیں۔

جیسی نے 13 سال کی عمر میں اپنا گھر چھوڑ دیا تھا۔ اسکاٹ لینڈ کے ایک گاؤں کی رہائشی جیسی نے اپنی نوجوانی کا زیادہ تر حصہ گائیوں کا دودھ دوہتے ہوئے گزارا۔

مزید پڑھیں: لمبی عمر کے لیے کون سی غذا کھانی چاہیئے؟

وہ محنت پر یقین رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’میں اس عمر میں بھی محنت کرتی ہوں اور بہت کم چھٹیاں لینا پسند کرتی ہوں‘۔

جیسی اب بھی باقاعدگی سے ورزش کرتی ہیں اور چرچ جا کر عبادت بھی کرتی ہیں۔

مردوں کے بارے میں ان کے مزید خیالات ہیں، ’میں نے کبھی شادی نہیں کی، کبھی کسی مرد پر بھروسہ نہیں کیا، صرف اپنے آپ پر بھروسہ کیا اور یہی میری طویل عمر کا راز ہے‘۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل اٹلی سے تعلق رکھنے والی 116 سالہ ایما مورنو نے بھی ایک انٹرویو میں اپنی طویل العمری کا راز کچھ اسی نوعیت کا بتایا تھا۔

ایما کے مطابق اپنی نوجوانی میں انہوں نے ایک شادی کی تھی لیکن وہ اس شادی سے خوش نہ رہ سکیں۔ جس کے بعد انہوں نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرلی اور اس کے بعد سے تنہا زندگی گزار رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی طویل زندگی کی وجوہات صبح جلدی اٹھنا اور تجرد کی زندگی گزارنا بھی ہے۔

جیسی کے آس پاس رہنے والے لوگ ان کے ہمت و حوصلے، اور اس طویل العمری میں بھی ان کی فعال زندگی پر انہیں حیران کن خاتون قرار دیتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top