پاکستان میں ایک لاکھ 32 ہزار افراد ایڈز کا شکار، سروے رپورٹhiv
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں ایک لاکھ 32 ہزار افراد ایڈز کا شکار، سروے رپورٹ

اسلام آباد : پانچویں قومی ایچ آئی وی ایڈز سروے رپورٹ جاری کر دی گئی، جس کے مطابق ملک میں ایک لاکھ 32 ہزار افراد ایچ آئی وی ایڈز کا شکار پائے گئے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں منعقدہ تقریب رونمائی میں عالمی امدادی اداروں یو این ایڈز اورڈبلیو ایچ او کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ سربراہ قومی انسداد ایڈز پروگرام ڈاکٹر بصیر اچکزئی نے پارٹنرز کے ہمراہ سروے رپورٹ جاری کی۔

چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل قومی ایڈز سروے رپورٹ کے زریعے ملک میں چار مخصوص گروہ میں ایڈز شرح کی جانچ کی گئی ہے۔

رپورٹ مندرجات کے مطابق خواجہ سراء،جسم فروش مرد اور خواتین سمیت سرنج کے زریعے نشہ کرنے والے افراد کو قومی ایڈز سروے کا حصہ بنایا گیا ہے، نتائج کے مطابق ملک میں سرنج سے نشہ کرنے والے 38.4فیصد افراد میں ایڈز کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ جسم فروشی سے وابستہ 2.2فیصدخواتین جبکہ جسم فروشی کے شعبے سے وابستہ 12.5فیصد مردوں میں ایڈز پایا گیا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق سروے کے دوران 14.6فیصد خواجہ سراؤں میں ایچ آئی وی ایڈز کی تصدیق ہوئی ہے۔


مزید پڑھیں : پاکستان میں ایڈز کا تشویشناک پھیلاؤ


ایڈز سروے کاا نعقاد ملک کے 23 بڑے و صنعتی شہروں میں کیا گیا تھا، ملک بھر سے 8606مقامات کو قومی ایڈز سروے کا حصہ بنایا گیا تھا۔

سروے رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد 60 ہزار تک جا پہنچی جبکہ دوسرے نمبر پر سندھ ہے ، جہاں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 52 ہزار ہوگئی ہے، بلوچستان میں 3 ہزار اور خیبرپختونخوا میں 11 ہزار افراد ایچ آئی وی ایڈز کا شکار پائے گئے۔

مارچ2016 سے دسمبر2016 تک جاری رہنے والے قومی ایڈز سروے کیلئے عالمی امدادی ادارے گلوبل فنڈ نے ایک ملین ڈالر کے فنڈز فراہم کئے تھے جبکہ رپورٹ کی تکمیل کیلئے یو این ایڈز،ڈبلیو ایچ او سمیت گلوبل فنڈ کا تعاون حاصل رہا ۔

قومی ایڈز سروے میں پنجاب کے 13،سندھ کے6 شہر شامل کئے گئے تھے، بلوچستان اورخیبر پختونخوا کے دو،دو شہر قومی ایڈز سروے کا حصہ تھے۔

تقریب سے خطاب میں قومی انسداد ایڈز پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر عبدالبصیر اچکزئی کا کہنا تھا کہ قومی ایڈز سروے ملک میں جان لیوا بیماری کی وسیع پیمانے پر تشخیص اور علاج کے لئے مدد گار ثابت ہوگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں