spot_img

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں کون کون شامل ہوگا ؟ بڑے نام سامنے آگئے

اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی کابینہ...

بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلیے قرارداد قومی اسمبلی میں جمع

پاکستان تحریک انصاف کے بانی کو رہا کرنے کی...

سینیٹ کے انتخابات 3 اپریل کو کرانے کا امکان

الیکشن کمیشن نے ایوان بالا (سینیٹ) کے عام انتخابات...

133 ٹن چکن چوری، سڑکوں پر فروخت!

ڈکیتی کی انوکھی واردات میں کیوبا میں 30 لوگوں نے مل کر 133 ٹن مرغی کا گوشت ڈبوں میں‌ بھر کر چوری کرلیا۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیوبا میں 30 افراد پر 133 ٹن کے قریب چکن چوری کرنے اور اسے سڑک پر بیچنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جب کہ ملک میں اس وقت خوراک کی قلت کا بھی سامنا ہے۔

کیوبا کے سرکاری ٹی وی کے مطابق، چوروں نے دارالحکومت ہوانا میں سرکاری سہولت خانے میں کارروائی کی ہے جہاں سے 1,660 سفید ڈبوں میں گوشت کو لے جایا گیا۔

اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ چوری شدہ چکن کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو فریج، لیپ ٹاپ، ٹیلی ویژن اور ایئر کنڈیشنر خریدنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

مرغی کے گوشت کو کیوبا کے ’راشن بک‘ کے نظام کے لیے مختص کیا گیا تھا جو کہ آنجہانی فیڈل کاسترو کے 1959 کے انقلاب کے بعد متعارف کرایا گیا تھا تاکہ عوام کو سبسڈائز چیزیں فراہم کی جائیں۔

سرکاری خوراک کی تقسیم کار کمپنی کے ڈائریکٹر ریگوبیرٹو مسٹیلائر کا کہنا ہے کہ چوری کی گئی جو مقدار چرائی گئی ہے وہ چھوٹے صوبے کے لیے ایک ماہ کے چکن کے راشن کے برابر تھی۔

تاہم حکام نے یہ نہیں بتایا کہ چکن کی چوری کب ہوئی، لیکن یہ ممکنہ طور پر آدھی رات اور 2 بجے کے درمیان کا واقعہ ہے۔ کیمرے کے ذریعے چکن لے جانے والے ٹرکوں کو پتا چلا۔

ٹی وی رپورٹ کے مطابق اس لسلے میں 30 افراد پر الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں پلانٹ کے شفٹ باسز، آئی ٹی ورکرز، سیکیورٹی گارڈز اور باہر کے لوگ بھی شامل ہیں جو کمپنی سے براہ راست وابستہ نہیں ہیں۔

اگر ان ملزمان پر اتنی بڑی مقدار میں چکن چرانے کا جرم ثابت ہوگیا تو انھیں 20 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

Comments

- Advertisement -