The news is by your side.

Advertisement

چودہ ہزار سال قبل انسان روٹی کھاتے تھے، حیران کُن شواہد دریافت

عمان: محکمہ آثار قدیمہ نے دنیا کا سب سے قدیم تندور اور روٹی کا ٹکڑا دریافت کرنے کا دعویٰ کردیا جو تقریبا 14ہزار سال قبل انسانوں کے استعمال میں تھا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اردن کے سیاہ صحرا میں محکمہ آثار قدیمہ کو زمین کی کھدائی کے دوران پرانی اشیاء ملیں جنہیں دیکھ کر ماہرین خود بھی حیران رہ گئے۔

محکمے کے ماہرین نے مشاہدے کے بعد بتایا کہ صحرا سے ملنے والی اشیاء دراصل ’روٹی‘ اور تندور ہے جسے انسان ہزاروں سال قبل اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرتا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 14 ہزار سال قبل انسان جنگلی گندم میں کچھ پودوں کی جڑیں ملا کر آٹا تیار کرتے اور پھر اس کی روٹی اپنی بھوک مٹانے کے لیے استعمال کرتے تھے، یہ دراصل آج استعمال ہونے والی ‘ڈبل روٹی‘ کی طرح ہے جس کی شکل گول نہیں بلکہ چوکور ہے۔

آثار قدیمہ کی ٹیم کے ماہرین کا کہنا تھا کہ روٹی کا ذائقہ مختلف اجناس کی طرح تھا جسے مختلف کھانوں، سالن وغیرہ کے ساتھ استعمال کیا جاتا تھا اس کے ساتھ ہی دو ممکنہ تندور بھی موجود تھے جہاں یقینی طور پر آٹے کو پکا کر روٹی بنائی جاتی ہوگی۔

ماہرین حالیہ  دریافت کو اہم اور قیمتی قرار دے دیا کیونکہ اس سے قبل سیاہ صحرا کے مقام سے جو شواہد ملے تھے وہ 5 ہزار سال پرانی تھے۔

حیران کُن طور پر تندور کے پاس ایسے شواہد بھی موجود تھے جن کی بنیاد پر ماہرین نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ قبل مسیح میں انسان کو نہ صرف اپنی خوراک کی ضرورت پوری کرنے کا شعور تھا بلکہ وہ آگ کا استعمال کرتے ہوئے کھانا بھی بناتے تھے۔

محکمہ آثار قدیمہ کے ماہرین نے دریافت ہونے والی چیزوں پر تحقیق کا آغاز کردیا جس میں کچھ نئے اشارے ملنے کی توقع بھی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں