The news is by your side.

Advertisement

بھارت: خواتین تحفے میں ملنے والے زیورات فروخت کرنے پر مجبور

نئی دہلی: بھارت میں کرونا وبا کے سبب بیشتر خاندان مالی مشکلات سے دوچار ہیں، لوگ روزمرہ کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اپنے سب سے قیمتی اثاثے تک فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ملک  کرونا وبا کے باعث شدید معاشی بحران کا شکار ہوچکا ہے، چھوٹے کاروبار تقریبا ختم ہوچکے ہیں، لوگوں کی عمر بھر کی جمع پونچی کرونا وبا سے لڑتے ہوئے ختم ہوچکی اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ لوگ روزمرہ کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اپنے سب سے قیمتی اثاثہ سونا اور ہندو خواتین اپنے ‘منگل سوتر‘ بھی فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

رہی سہی کسر گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایندھن، بجلی، خوردنی اشیاء وغیرہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پوری کردی ہے، جس کے باعث مالی پریشانی سے دوچار بہت سے کنبے اور چھوٹے کاروبار کرنے والے اپنے آخری سہارے سونے کے زیورات کو فروخت کر رہے ہیں یا پھر انہیں گروی رکھ کر قرض لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسکول سے واپس آئے بچوں پر قیامت ٹوٹ پڑی

ممبئی کے زیورات کے بازار میں روزانہ ایسے سینکڑوں واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں جہاں خواتین اپنی شادی کی سب سے قیمتی یاد کو بیچنے کے لئے مارکیٹ کا رخ کررہی ہیں۔مقامی سونے کے تاجر نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں ان کے کسٹمرز بالخصوص خواتین نے انہیں سونے کی چوڑیاں، کنگن، انگوٹھیاں، ہار اور جھمکے سمیت کئی طرح کے زیورات فروخت کیے، سب سے زیادہ ناگوار اس وقت لگتا ہے جب کوئی عورت اپنا ‘منگل سوتر’ فروخت کرتی ہے، یہ تو شادی شدہ خاتون کی نشانی ہے۔

عظیم پریم جی یونیورسٹی کی جانب سے کرائی گئی ایک ریسرچ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں کاروبار بند ہونے اور ملازمتیں ختم ہو جانے سے تیئیس کروڑ بھارتی غربت تلے آچکے ہیں اقتصادی بحران کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو کرایہ، بچوں کے اسکول کی فیس اور ہسپتالوں کے بل کی ادائیگی کے لیے سخت مشکلات پیش آرہی ہیں۔

دوسری جانب بھارت کے مرکزی بینک ریزرو بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق سال دوہزار اکیس کے ابتدائی آٹھ مہینوں کے دوران بینکوں نے سونے کو گروی رکھنے کے بدلے میں تقریباً چار ارب 71 کروڑ روپے بطور قرض دیئے، یہ گزشتہ برس کے مقابلے 74 فیصد زیادہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں