The news is by your side.

Advertisement

دوشیزہ کی عصمت بچانے والا نوجوان بے رحمی سے قتل

قاہرہ : مصر میں جواں سال نوجوان کو دوشیزہ کی عزت بچانے کے جرم میں نامعلوم ملزمان نے تلا شہر میں چاقو کے وار کرکے بے رحمی سے قتل کردیا۔

تفصیلا ت کے مطابق مصر کے شہر تلا میں یہ افسوس ناک واقعہ گزشتہ روز آیا جب 18 سالہ نوجوان تلا نے ایک سڑک پر کچھ اوباش افراد کو ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی اور اسے تشدد کا نشانہ بناتے دیکھا تو دوشیزہ کا دفاع کرنے پہنچ گیا، نوجوان نے مظلوم لڑکی کو کو عصمت دری ہونے سے بچالیا لیکن ملزمان نے بعد میں محمود البنہ پر گھات لگاکر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔

زخمی نوجوان کو فوری پر استپال منتقل کیا گیا تاہم وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں ہی دم توڑ گیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق مقتول نوجوان نے دوشیزہ کی عزت بچانے کے بعد اپنے فیس بُک پیج پر واقعے سے متعلق پوسٹ شیئر کی تھی کہ ’گلی میں کسی لڑکی تشدد کا نشانہ بنانا مردانگی نہیں ہے‘۔

خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ نوجوان پر قاتلانہ حملہ کرنے والے لڑکوں کا وہی گروپ تھاجو گلی میں لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنا رہا تھاا اور جنسی زیادتی کرنا چاہتے تھے، تین لڑکوں کے مذکورہ گروپ کی ایک 17 سالہ ایم ریگ نامی نوجوان قیادت کررہا تھا، جنہیں سیکیورٹی اداروں نے گرفتار کرلیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ ملزمان کو پہلے قتل کےمقدمات کا سامنا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مصری عوام کی جانب سے محمود البنہ کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں شرکت کی گئی، شرکاء جنازہ کا مطالبہ تھا کہ ملزمان کو گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے۔

شرکائے جنازہ نے طویل عرصے سے جاری جنسی استحصال کی روک تھام کےلیے کیے جانے والے وعدوں اور وعدہ خلافی کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اقوام متحدہ کے 2013 کے ایک سروے کے مطابق ، 99.3٪ مصری خواتین کسی نہ کسی طرح کی جنسی ہراسانی کا شکار ہوچکی ہیں ، جو دنیا کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔

پچھلے سال ہی غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے اطلاع دی تھی کہ مصر خواتین کےلیے دنیا کے بدترین ممالک میں سے ایک ہے جہاں خواتین کی عزت محفوظ نہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مصر کورواں برس جولائی میں 15 سالہ امیرہ احمد رزک نامی لڑکی کے واقعے نے ہلاکر رکھ دیا تھاجب امیرہ نے اپنے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کرنے والے بس ڈرائیور پر اپنے دفاع میں 14 مرتبہ چاقوکے وار کیے تھے تاہم پولیس نے جنسی ہراسانی کا شکار ہونےو الی امیرہ کو ہی گرفتار کرکے بالغ افراد کی جیل میں منتقل کردیا تھا جس نے ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا تھا۔

خیال رہے کہ مصری قانون کے مطابق جب تک کسی کے ساتھ جنسی زیادتی ہونہ جائے اس وقت اسے اپنے دفاع کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ محمود البننہ کے جسد خاکی کو سپرد خاک کرنے کے بعد مقتول کے اہلخانہ، دوست احباب اور مصری عوام انصاف کےلیے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے معاملات سے نمٹنے کےلیے حکومت کی جانب رخ کیے ہوئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ البننہ کی موت سے معاشرے میں کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں