The news is by your side.

Advertisement

عالمی پابندیوں کے باوجود روسی تیل کو منافع کیسے ہوا؟

ماسکو: یوکرین جنگ کے باعث لگائی گئی عالمی پابندیاں روسی معیشت کا کچھ نہ بگاڑ سکی صرف تیل کی برآمدات سے اس کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی ( آئی ای اے) کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بلومبرگ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دو ہزار بائیس کے آغاز سے روس کی تیل کی برآمد سے ہونے والی آمدنی میں تقریبا پچاس فیصداضافہ ہوا ہے، ماسکو نے اس سال خام تیل اور تیل سے متعلقہ مصنوعات کی فروخت سے ہر ماہ تقریبا بیس ملین ڈالر کمائے ہیں۔

آئی ای اے نے کہا کہ مغرب کی پابندیوں کے باوجود بھی روسی تیل کی ترسیل میں اضافہ ہوا ہے، روس سے تیل کی ترسیل مارچ کے مقابلے میں یومیہ تقریبا چھ لاکھ بیس ہزار بیرل سے بڑھ کر اپریل میں آٹھ اعشاریہ ایک ملین ہوگئی جو یوکرین کے بحران اور اس کے نتیجے میں لگنے والی پابندیوں سے پہلے اپنی اوسط پر واپس آگیا۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین میں روسی فوج نے پسپائی اختیار کرلی، کمانڈر کا دعویٰ

ایجنسی کے مطابق بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے زیادہ تیل کی کھیپوں کارخ ایشیا کی طرف کیا گیا، چین اور بھارت نے دعویٰ کیا کہ ایسی سپلائی جوپہلے کہیں اور جانا مقصود تھی ، اس کے علاوہ یورپی یونین اپنے موقف کے باوجود اب تک روسی ایندھن کے لئے سب سے بڑی منڈی بنی ہوئی ہےاور اپریل میں ملک کی تیل کی برآمدات کا تینتالیس فیصد یورپی بلاک میں چلاگیا۔

ایجنسی کے مطابق عالمی توانائی کی منڈیاں جو پہلے ہی روسی خام تیل پر غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے تنگ ہیں مزید مشکلات کا سامنا کرسکتی ہیں، جس سے روسی تیل پر یورپی پابندی اور چین کی جانب سے کووڈ کے لاک ڈاؤنز اٹھانے جانے کی وجہ سے ڈیمانڈ میں اضافہ ہوسکتا ہے ایجنسی کا اندازہ ہے کہ عالمی سپلائی جو پہلے ہی گذشتہ ماہ دس لاکھ بیرل کم تھی سال کے دوسرے نصف حصے میں تین گنا کم ہوسکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں