مشعال خان کے قتل میں ملوث مزید 2 ملزمان گرفتار -
The news is by your side.

Advertisement

مشعال خان کے قتل میں ملوث مزید 2 ملزمان گرفتار

مردان: صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان میں عبد الولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشعال خان کے قتل کے الزام میں مزید 2 ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔ کیس میں گرفتار ملزمان کی تعداد 36ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق عبد الولی خان یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے طالب علم مشعال کے قتل کیس میں پیشرفت جاری ہے۔ پولیس نے مزید 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم اشفاق خلجی کو ویڈیو کے ذریعے شناخت کیا گیا۔ مشعال قتل کیس میں سیکیورٹی انچارج بلال بخش سمیت گرفتار ملزمان کی تعداد 36 ہوگئی ہے۔

یاد رہے چند روز قبل مشعال کے قتل کے حوالے سے کچھ ویڈیوز بھی منظر عام پر آچکی ہیں جن میں سے کچھ قتل سے پہلے اور کچھ قتل کے بعد کی ہے۔

ایک ویڈیو قتل سے پہلے کی ہے جس میں مشتعل ہجوم مشعال کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ دوسری ویڈیو میں قتل کے بعد یونیورسٹی کے طالب علموں کا جتھا ایک دوسرے کو مبارکباد دیتا اور ایک دوسرے سے قاتل کا نام نہ بتانے کا حلف لیتا دکھائی دے رہا ہے۔

ایک اور ویڈیو میں مشتعل طلبا یونیورسٹی سے باہر جانے والی گاڑیوں میں مشعال کی لاش تلاش کر رہے ہیں تاکہ بہیمانہ تشدد سے اسے موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اس کی لاش کو بھی جلا دیا جائے۔

مجسٹریٹ کے سامنے ایک ملز م سدیس نے اعتراف جرم کرلیا تاہم 7 ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔ مشعال قتل کیس کے مرکزی ملزمان تاحال گرفتار نہیں کیے جاسکے۔

یاد رہے کہ 13 اپریل کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر مردان کی عبدالولی یونیورسٹی میں ایک مشتعل ہجوم نے طالب علم مشعال خان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

مشعال پر توہین رسالت کا الزام لگایا گیا تاہم چند روز بعد انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے بتایا کہ مشعال کے خلاف توہین رسالت سے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے۔

مزید پڑھیں: توہین مذہب کا الزام عائد کرنے والوں کو تعلیم کی ضرورت ہے، امام کعبہ

بعد ازاں کیس کے مرکزی ملزم وجاہت نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے واقعے کی تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی پر ڈال دی تھی۔ ملزم کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کے لیے جامعہ کی انتظامیہ نے کہا تھا۔

ملزم کے مطابق انتظامیہ نے اسے کہا کہ مشعال اور ساتھیوں نے توہین رسالت کی ہے جس پر ملزم نے یونیورسٹی انتظامیہ کے کہنے پر طالب علموں کے سامنے مشعال اور ساتھیوں کے خلاف تقریر کی، تقریر میں کہا کہ ہم نے مشعال، عبداللہ اور زبیر کو توہین کرتے سنا ہے۔

مشعال کے قتل کے خلاف قومی اسمبلی میں بھی مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

دوسری جانب چند روز قبل سپریم کورٹ میں مشعال خان کے قتل کی ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن بنانے سے روک دیا۔ آئی جی خیبر پختونخواہ نے مکمل رپورٹ مرتب کرنے کے لیے مزید مہلت مانگ لی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں