The news is by your side.

Advertisement

حکومت نے مشرف کیس کا فیصلہ روکنے کی درخواست دائر کر دی

اسلام آباد : حکومت نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ روکنے کی درخواست دائر کر دی، جس میں کہا گیا خصوصی عدالت کا فیصلہ محفوظ کرنے کا حکم نامہ معطل کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف آئین شکنی کیس کا فیصلہ روکنے کے لیے دو درخواستیں دائرکردی گئیں، ایک درخواست وزارت داخلہ اور دوسری پرویز مشرف کے وکیل نے دائر کی۔

وزارت داخلہ نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ پرویز مشرف کو صفائی کا موقع ملنے تک خصوصی عدالت کو کارروائی سے اور نئی پراسیکیوشن ٹیم تعینات کرنے تک خصوصی عدالت کو کارروائی سے بھی روکا جائے، اس کے علاوہ خصوصی عدالت کا فیصلہ محفوظ کرنے کا حکم نامہ معطل کیا جائے۔

دوسری جانب مشرف کے وکیل درخواست میں کہا ہے کہ پرویز مشرف سے قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے، کیس میں انھیں دفاع کے حق سے محروم کیا گیا، مشرف شدید علالت کے باعث پیش نہیں ہوسکے، خصوصی عدالت کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل چار اور دس اے کی خلاف ورزی ہے۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ19 نومبر 2019 کا خصوصی عدالت کا فیصلہ معطل کیا جائے اور خصوصی عدالت کو فیصلہ دینے سے روکا جائے۔

یاد رہے 23 نومبر کو سابق صدر پرویزمشرف کی جانب سے خصوصی عدالت کے فیصلہ محفوظ کرنے کیخلاف عدالت سے رجوع کیا گیا تھا ، جس میں کہا گیا تھا عدالت نے مؤقف سنے بغیر کیس کا فیصلہ محفوظ کیا، کیس کی سماعت تندرست ہونےتک ملتوی کی جائےاور اور غیرجانبدارمیڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے۔

مزید پڑھیں : پرویزمشرف کے خلاف آئین شکنی کیس کا فیصلہ محفوظ ، 28 نومبر کو سنایا جائے گا

یاد رہے 19 نومبر کو خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو 28 نومبر کو سنایا جائے گا، فیصلہ یک طرفہ سماعت کے نتیجے میں سنایا جائے گا۔

عدالت نے پرویز مشرف کے وکلا کو دفاعی دلائل سے روک دیا تھا اور پراسیکیوشن کی نئی ٹیم مقرر کرنے کا حکم دیا تھا ، نئی ٹیم مقرر کرنے میں تاخیر پر عدالت نے بغیر سماعت فیصلہ محفوظ کیا، عدالت کا کہنا تھا کہ مشرف کے وکیل چاہیں تو 26 نومبر تک تحریری دلائل جمع کرادیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں