سال 2017 کو ضربِ قلم کا سال منانے کا اعلان -
The news is by your side.

Advertisement

سال 2017 کو ضربِ قلم کا سال منانے کا اعلان

اسلام آباد :مشیر وزیراعظم برائے تاریخ ادب وقومی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ حکومت نے رواں سال کو ضرب قلم طور پر منانے کا اعلان کیا ہے، فنکاروں اور ادیبوں کی تحقیق کو عام کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔

اسلام آبادمیں ادبی کانفرنس سے خطاب میں عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ادب کے فروغ کیلئے وسائل مہیا کریں گے، وزیراعظم کے اعلان کردہ فنڈز سے فنکاروں کے مسائل حل کریں گے، ادیبوں کی تحقیقات کی اشاعت کیلئے بھی معاہدے کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادیبوں کی انشورنس دوگنی کردی گئی ہے، ادبی ورثہ وزارت نہیں بلکہ ایک قبیلہ ہے، ادبی ورثہ وزارت نہیں بلکہ ایک قبیلہ ہے، اس دور میں دیکھا جائے کالم تو پڑھے جارہے ہیں لیکن تخلیقی ادب پیچھے ہوتا جارہا ہے لیکن جن اداروں کی ذمہ داری مجھ پر وزیراعظم نے سونپی ہے ان میں اہل علم کیلئے کام کرنا ہے۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ کلم کاروں ,ادیبوں اور شاعروں ہر حکومت کو توجہ دینے کی بات درست ہے لیکن لکھاری خودمختار ہوتا ہے حکومت کی سرپرستی میں شاید یہ کام ممکن نہیں، میں نے عہد کررکھا ہےکہ آپ کے تعاون کے لیے ہر کام کرینگے لیکن اپ کی تخلیق کاری میں مداخلت نہیں کرینگے، آپ کو لکھنے میں آزاد رکھا جائے گا

انکا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ضرب قلم کی جو تشریح کی، جس میں انھوں نے انتہا پسندی ,تفرقہ بازی,تلخ نوائی کہ نفی کرنے کا کہا ہے، جس سے معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے، جو ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے دو ہزار سترہ کا سال ضرب قلم کے نام سے منسوب کیا ہے، جس کے تحت محفلوں کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ اکادمی ادبیات کے لیے وزیراعظم نے پچاس کروڑ روپے کا فنڈ تجویز کیا ہے۔

مشیر وزیراعظم برائے تاریخ ادب وقومی ورثہ نے کہا کہ وزیراعظم نے ضرورت مند لکھاریوں کی تعداد پانچ سو سے بڑھا کر ایک ہزا کردی گئی ہے، قلم کاروں کے لیے ایوارڈ کی تعداد بڑھا کر گیارہ سے بیس کردی گئی ہے، قومی سطح پر لائف انشورنس کی تعداد 354 تھی لیکن اب ان کی تعداد 700 کردی گئی ہے، حادثاتی موت پر دو لاکھ کی رقم اب چار لاکھ کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طبعی موت کے لیے دی جانے والی رقم بڑھا کر ایک لاکھ سے دو لاکھ کردی گئی ہے، ہر سال میں بچھڑ جانے والے کسی ایک ادبی شخصیت کے لواحقین کو دس لاکھ روپے دیے جائیں گے، فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کی پزیرائی اور دیکھ بھال کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے گی، ان اقدامات کی رپورٹ ایک ماہ بعد وزیراعظم کوپیش کرے گی، جس کے بعد ان کے لیے احسن اقدامات اٹھائے جائیں گے، تمام صوبوں کی زبانوں کے تراجم کرنے پر کام شروع کردیا گیا ہے اردوبورڈ کے منتظمین بائیس والیم کی ڈکشنری کو نستالیق میں لارہے ہیں۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ زبان ,ادب اور معاشرہ کے عنوان سے چوتھی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد جو اکاددمی ادبیات پاکستان کے زیر انتظام منعقد کی گئی، معاشرے میں امن ومحبت اور خیرسگالی کے فروغ کے لیے اس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا، جس میں انتہا پسندی کا خاتمہ ہوسکے، ہمیں تجزیات پر جانا چاہیے تعلیم کو فروغ دیں، صحافیوں کو بھی لکھنے کے ساتھ پڑھنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

یاد رہے دو روز قبل وزیراعظم پاکستان نوازشریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب کی کامیابی کے بعد اب انتہا پسند سوچ کے خلاف ادیبوں کی رہنمائی میں آپریشن ’ضرب قلم‘ کی ضرورت ہے۔


مزید پڑھیں : ضرب عضب کے بعد اب آپریشن ’ضرب قلم‘ کی ضروت ہے، نواز شریف


وزیراعظم نواز شریف نے اکادمی ادبیات کی جانب سے منعقد کی گئی بین الاقوامی ادبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کائنات کا سب سے بڑا انقلاب ہے، اللہ تعالی نے بھی قلم کی قسم کھائی اور وحی کا آغاز اقرا کے مبارک لفظ سے کیا، اقرا اور قلم کے امین ادیب حضرات ہیں۔

اس موقع پروزیراعظم نواز شریف نے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی کی کاوشوں کو سراہا اور محکمہ کے لیے 50 کروڑ روپے کے فنڈز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فنڈ اہل علم کے مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں