امن کا نوبل انعام جنسی تشدد کے خلاف برسر پیکار نادیہ مراد اور ڈاکٹر ڈینس مک وگی کے نام -
The news is by your side.

Advertisement

امن کا نوبل انعام جنسی تشدد کے خلاف برسر پیکار نادیہ مراد اور ڈاکٹر ڈینس مک وگی کے نام

نوبل انعام 2018 برائے امن کا اعلان کردیا گیا ہے جو رواں برس جنسی تشدد کے خلاف کام کرنے والے افراد نادیہ مراد اور ڈاکٹر ڈینس مک وگی کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔

سنہ 2018 کے کیمیا، طبیعات اور طب کے انعامات کے بعد امن کے نوبل انعام کا بھی اعلان کردیا گیا۔

رواں برس یہ انعام عراق سے تعلق رکھنے والی نادیہ مراد اور افریقی ملک کانگو کے ڈاکٹر ڈینس مک وگی کو دیا جارہا ہے۔ دونوں افراد دنیا بھر میں جنگی علاقوں میں خواتین پر ہونے والے جنسی تشدد کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

نادیہ مراد

نادیہ مراد طحہٰ کا تعلق عراق کے اقلیتی یزیدی قبیلے سے ہے۔ خوفناکی و بربریت کی اعلیٰ مثال قائم کرنے والی دہشت گرد اور سفاک تنظیم داعش نے سنہ 2014 میں عراق کے یزیدی قبیلے کو کافر قرار دے کر عراقی شہر سنجار کے قریب ان کے اکثریتی علاقے پر حملہ کیا اور ہزاروں یزیدیوں کو قتل کردیا۔

داعش کے جنگجو ہزاروں یزیدی خواتین کو اغوا کر کے اپنے ساتھ موصل لے گئے جہاں ان کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی اور انہیں شدید جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

نادیہ انہی میں سے ایک تھی جو خوش قسمتی سے داعش کی قید سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہوگئی، اور اب داعش کے خلاف نہایت ہمت اور حوصلے سے ڈٹ کر کھڑی ہے۔

وہ بتاتی ہیں، ’جب داعش نے ہمارے گاؤں پر حملہ کیا تو انہوں نے ہم سے کہا کہ ہم مسلمان ہوجائیں۔ جب ہم نے انکار کردیا تو انہوں نے عورتوں اور بچوں کو مردوں سے علیحدہ کردیا‘۔

نادیہ بتاتی ہیں کہ اس کے بعد داعش نے تمام مردوں کو ذبح کیا۔ وہ سب اپنے باپ، بھائی، بیٹوں اور شوہروں کو ذبح ہوتے دیکھتی رہیں اور چیختی رہیں۔ اس کے بعد داعش کے جنگجوؤں نے عورتوں کو اپنے اپنے لیے منتخب کرلیا۔

وہ کہتی ہیں، ’مجھ سے ایک خوفناک اور پر ہیبت شخص نے شادی کرنے کو کہا۔ میں نے انکار کیا تو اس نے زبردستی مجھ سے شادی کی‘۔ بعد ازاں نادیہ کو کئی جنگجوؤں نے بے شمار روز تک بدترین جسمانی تشدد اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

اقوام متحدہ میں نادیہ نے اپنے دردناک دنوں کی داستان سناتے ہوئے بتایا، ’وہاں قید لڑکیوں کے لیے قانون تھا کہ جس لڑکی کے پاس سے موبائل فون برآمد ہوگا اسے 5 دفعہ زیادتی کا نشانہ بنایا جائے گا۔ کئی لڑکیوں اور عورتوں نے اس ذلت اور اذیت سے بچنے کے لیے اپنی شہ رگ کاٹ کر خودکشی کرلی۔ جب جنگجو ان لڑکیوں کی لاشیں دریافت کرتے، تو وہ بقیہ لڑکیوں کو اس عمل سے باز رکھنے کے لیے لاشوں تک کی بے حرمتی کیا کرتے‘۔

نادیہ بتاتی ہے کہ اس نے ایک دو بار داعش کی قید سے فرار کی کوشش کی لیکن وہ ناکام ہوگئی اور داعش کے سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا۔ انہوں نے اسے برہنہ کر کے ایک کمرے میں بند کردیا تاکہ وہ دوبار بھاگنے کی کوشش نہ کرے۔

تاہم اپنی فرار کی ایک اور کوشش میں وہ کامیاب ہوگئی اور داعش کے چنگل سے نکل بھاگی۔

وہ کہتی ہیں، ’میں خوش قسمت ہوں کہ وہاں سے نکل آئی۔ مگر وہاں میری جیسی ہزاروں لڑکیاں ہیں جنہیں بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ملا اور وہ تاحال داعش کی قید میں ہیں‘۔

نادیہ اپنی واپسی کے بعد سے مستقل مطالبہ کر رہی ہیں کہ 2014 میں ان کے گاؤں پر ہونے والے داعش کے حملہ کو یزیدیوں کا قتل عام قرار دیا جائے، داعش کی قید میں موجود خواتین کو آزاد کروایا جائے اور داعش کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے جس میں انہیں شکست ہو، اور اس کے بعد داعشی جنگجؤں کو جنگی مجرم قرار دے انہیں عالمی عدالت میں پیش کیا جائے۔

سنہ 2016 میں نادیہ کو اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر بھی مقرر کیا گیا جس کے بعد اب وہ دنیا بھر میں انسانی اسمگلنگ کا شکار، خاص طور پر مہاجر لڑکیوں اور خواتین کی حالت زار کے بارے میں شعور و آگاہی پیدا کرنے پر کام کریں گی۔

نادیہ کو یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی جانب سے سخاروف پرائز سے بھی نوازا گیا۔

ڈاکٹر ڈینس مک وگی

کانگو سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ڈینس مک وگی نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ کانگو میں جنسی تشدد کا شکار خواتین کے لیے کام کرتے ہوئے گزارا ہے۔

وہ ڈاکٹر بھی ہیں اور انہوں نے کئی افریقی ممالک میں اس اندوہناک صدمے سے گزرنے والی خواتین کا علاج بھی کیا ہے۔

ڈاکٹر ڈینس مک وگی پنزی اسپتال اور پنزی فاؤنڈیشن کے بھی بانی ہیں۔ سنہ 2014 میں انہیں بھی سخارووف پرائز سے نوازا جا چکا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں