The news is by your side.

Advertisement

تحریک عدم اعتماد پر بلوچستان عوامی پارٹی منقسم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق متضاد آرا کے باعث بلوچستان عوامی پارٹی کو فیصلہ کرنے میں دقت کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق متضاد آرا پائی جاتی ہیں، پارٹی اکثریت پی ٹی آئی حکومت کیساتھ رہنےکےحق میں ہے جس کی سب سے بڑی تائید کنندہ وفاقی وزیر زبیدہ جلال ہیں جو حکومت کا ساتھ دینے کی حامی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ ارکان حکومت سےناراض ہیں اور اسی بنا پر وہ اپوزیشن کاساتھ دینا چاہتےہیں، رہنما باپ پارٹی کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلےتک رائےتبدیل ہوسکتی ہے ،آخری وقت میں فیصلہ کرینگے۔

باپ پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اختلاف کی وجہ سے مزید انتظار اور معاملات کا جائزہ لیا جارہا ہے، اس کے علاوہ 28مارچ کو چیئرمین سینیٹ کےانتخاب پرعدالتی فیصلےکا بھی انتظار ہے، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف بھی عدم اعتماد لانے کی تیاریاں کی جارہی ہے اور اس پر ہوم ورک شروع کیا جاچکا ہے، جس کا آغاز بلوچستان سے ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان عوامی پارٹی میں اختلافات، بڑی تبدیلی کا امکان

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کی اکثریت اپوزيشن کا ساتھ دینے کو تیار ہے، بی اے پی کے ایم پی ایز کی اکثریت پی ڈی ایم کو ساتھ دینے کا یقین دلا چکی ہے۔

پی ڈی ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ ق لیگ اور ایم کیوایم کی جانب سے اپوزیشن کا ساتھ دینے کےاعلان کا انتظار ہے، دونوں جماعتوں کے اعلان کے ساتھ ہی چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد آجائےگی۔

پی ڈی ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کو بھی تبدیل کرنے پر سنجیدہ غور شروع کردیا گیا ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں جے یو آئی، بی این پی مینگل، اے این پی اور یار محمد بلوچستان میں حکومت بنائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں