The news is by your side.

Advertisement

سری لنکا میں 26 وزراء اجتماعی طور پر مستعفی

سری لنکا میں ابتر معاشی صورتحال پر 26 وزراء اجتماعی طور پر مستعفی ہو گئے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا میں شدید معاشی بحران پر قابو پانے میں ناکامی پر 26 وزراء نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔

کابینہ ارکان کی جانب سے اجتماعی طور پر مستعفی ہونے کا فیصلہ مہنگائی اور سنگین معاشی صورتحال پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے۔

صدر نے احتجاج کو روکنے کے لیے دارالحکومت میں رات کا کرفیو نافذ کرتے ہوئےسیکورٹی انتظامات سخت کرنے کی ہدایت کی ہے تاہم اپوزیشن نے کرفیو توڑ کر احتجاج کیا اور صدر سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی قرضوں اور ٹیکس سے متعلق حکومتی اقدامات بدترین معاشی بحران کی وجوہات میں شامل ہیں

اس وقت ملکی زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ حکومت کے پاس تیل درآمد کرنے کیلیے ڈالر نہیں بچے ہیں، بجلی کی عدم دستیابی نے ملک کے بڑے حصے کو تاریکی میں ڈبو رکھا ہے، ایندھن کیلیے راشن بندی جاری ہے اور اسی تناظر میں دو اموات بھی ہوچکی ہیں جس کے بعد سری لنکن حکومت نے پیٹرول پمپس پر بڑھتے ہوئے ہجوم کے پیش نظر نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے فوج بھی تعینات کر دی ہے۔

کھانے پینے کی اشیا کی قلت اور آسمان سے چھوتی قیمتوں نے لنکن شہریوں کی زندگی کو تباہ کردیا ہے جب کہ حال ہی میں حکومت سری لنکا نے کاغذ کے بحران کے باعث ملک بھر میں امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں