The news is by your side.

Advertisement

ایوان بالا کا اہم ترین اجلاس، متعدد سینیٹرز کی غیر حاضری پر سوالیہ نشان

اسلام آباد: حکومت کی کامیاب حکمت عملی کے باعث ایوان بالا میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور کیا جاچکا ہے، تاہم اہم ترین بل کی منظوری کے موقع پر حکومتی و اپوزیشن سینیٹرز کی غیر حاضری نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری کے موقع پر متعدد اراکین سینیٹ سے غیرحاضر رہے، اپوزیشن کے اہم رکن اور سال دوہزار اکیس میں سینیٹ چیئرمین کے امیدوار یوسف رضا گیلانی آج کے اہم ترین اجلاس میں شریک ہی نہ ہوئے۔

حکومتی اتحادی ایم کیو ایم کے سینیٹر فیصل سبزواری اور خالدہ اطیب بل کی منظوری کے وقت شریک نہیں تھے، نزہت صادق کینیڈا میں ہیں، مشاہد حسین سید کرونامیں مبتلا ہونے پر شریک نہ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک ترمیمی بل،حکومتی شخصیات کے اپوزیشن سینیٹرز سے رابطے

فاٹا سے سینیٹر ہلال الرحمان کرونا وائرس کے باعث اجلاس میں نہ آسکے جبکہ فاٹا سے ہی سینیٹر ہدایت اللہ بھی ایوان سے غائب رہے، تحریک کی منظوری کےبعد اے این پی کے سینیٹر عمر فاروق ایوان سے چلے گئے۔

اسی طرح بی این پی مینگل سینیٹر قاسم رونجھو ،سینیٹر نسیمہ احسان شاہ، پی کے میپ کے سینیٹر سردار شفیق ترین بھی ایوان نہ آئے جبکہ پیپلزپارٹی کے سینیٹر سکندر مندھرو امریکا میں زیر علاج ہیں۔

دوسری جانب اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری کے موقع پر حکومتی سینیٹر زرقا کی سینیٹ آمد پر حکومتی و اپوزیشن ارکان حیران رہ گئے، شدید بیماری کے باعث وہ آکسیجن سلنڈر اور اپنا ذاتی معالج کے ساتھ ایوان میں آئیں اور اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز اے آر وائی نیوز نے خبر بریک کی تھی کہ ایوان بالا سے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پاس کرانے کے لئے حکومتی شخصیات نے اپوزیشن سینیٹرز سے رابطے کئے تھے، جس میں بل کی منظوری کے وقت اپوزیشن کے3 سے 4 سینیٹرز کی غیرحاضری کا کہا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں