The news is by your side.

Advertisement

تین سالہ بچی کشف کو باپ نے نہر میں کیوں پھینکا؟ افسوس ناک انکشاف

فیصل آباد: پنجاب کے ایک نواحی علاقے ساندل بار میں نہر سے مردہ حالت میں ملنے والی تین سالہ بچی کشف سے متعلق معلوم ہوا ہے کہ معصوم بچی کو باپ نے خود نہر میں پھینک دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق فیصل آباد میں جب ایک باپ کی شفقت وحشت میں بدلی تو اس نے تین سال کی بیٹی کو نہر میں ہی پھینک دیا، سفاک باپ آصف نے پولیس تفتیش کے دوران بتایا کہ کشف بول نہیں سکتی تھی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نواحی علاقے میں گزشتہ روز لاپتا ہونے والی 3 سالہ بچی کا قاتل باپ نکلا، تھانہ ساندل بار پولیس نے ملزم آصف جاوید کوگرفتار کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بچی کے والد آصف جاوید نے بتایا تھا کہ وہ بیٹی کے ہمراہ دربار گیا تھا، اس نے بیٹی کشف کو موٹر سائیکل کے پاس چھوڑا اور نیاز کے چاول لینے چلا گیا، لیکن واپسی پر بچی غائب تھی۔

بچی کے والد نے تھانہ ساندل بار میں بیٹی کے اغوا کی رپورٹ درج کرائی، پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کی تلاش جاری تھی کہ اس کی لاش گوجرہ کے علاقے میں نہر سے مل گئی، پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی تھی، اور واقعے کی تحقیقات بھی شروع کیں۔

آخر کار، پولیس نے معلوم کر لیا کہ بچی کا قتل والد نے خود ہی کیا، اس نے سفاکی کے ساتھ بیٹی کو نہر میں پھینکا، پولیس تفتیش کے دوران اس نے بتایا کہ کشف ساری رات روتی رہتی تھی، اور سونے نہیں دیتی تھی، اس لیے اسے نہر میں پھینک دیا۔

والد نے بتایا کہ بچی بولتی نہیں تھی تاہم ڈاکٹر نے کہا تھا کہ یہ آہستہ آہستہ بولے گی جس کی وجہ سے اسے نہر میں پھینکا۔

باپ آصف نے یہ بھی بتایا کشف کو نہر میں پھینک کر اس نے میلے سے بیٹی کے اغوا کا ڈراما رچایا۔ پولیس کے مطابق معصوم کشف کے اغوا کا مقدمہ تایا ذوالفقار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آصف کا جمعرات کو عدالت سے جسمانی ریمانڈ لیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں