The news is by your side.

Advertisement

انگلی کے پوروں‌ سے نکلنے والے پسینے سے موبائل چارج کرنا ممکن

عصر حاضر میں سب سے اہم سائنسی ایجاد موبائل فون کو مانا جاتا ہے، جس کی اہمیت اسمارٹ فون آنے کے بعد خاصی حد تک کم بھی ہوئی ہے۔

موبائل فون کو جدید کرنے کے بعد اسے اسمارٹ فون کی صورت متعارف کرایا گیا، جس کے بعد کمپیوٹر، کیمرے، ریڈیو، ٹی وی اور وی سی آر کی ضرورت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔

اسمارٹ فون کو مزید جاندار بنانے کے لیے مختلف کمپنیاں کام کررہی ہیں، جس میں طاقت ور کیمرے، ریم، میموری سمیت دیگر فیچرز شامل ہیں۔

اسمارٹ فون کے بعد صارفین کو سب سے زیادہ مسئلہ چارجنگ کا تھا کیونکہ چند گھنٹوں استعمال کرنے کے بعد اس کی بیٹری ختم ہوجاتی ہے، مختلف کمپنیوں نے جاندار بیٹری والے موبائل بھی متعارف کرائے مگر چارجنگ کا مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔

اب امریکی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ماہرین نے ایک ایسی دلچسپ ایجاد کی، جس  کے بعد انگلیوں کے پوروں سے نکلنے والا پسینہ موبائل چارجنگ کا کام کرسکے گا۔

مزید پڑھیں: وائی فائی سگنلز کے ذریعے موبائل چارجنگ کا کامیاب تجربہ

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ، سان ڈیاگو نے ایک ایسا آلہ یا گیجڈ تیار کیا، جسے اگر ہاتھ کی انگلیوں پر پہن لیا جائے تو ہاتھ کے پسینے سے اتنی بجلی پیدا ہوگی جو اسمارٹ فون یا دیگر ڈیوائسز چارج کرسکے گی۔

رپورٹ کے مطابق پسینے سے بجلی بنانے والی اس مشین کو ’بایو فیول سیل‘ (بی ایف سی) کا نام دیا گیا ہے، اگر آپ اسے رات میں پہن کر سو جائیں یا کی بورڈ ٹائپنگ کے وقت ہاتھ میں پہن لیں تو یہ بجلی پیدا کریں گے۔

منفرد ایجاد کرنے والے سائنس دان جوزف وینگ کا کہنا ہے کہ ’ہماری خواہش ہے لوگ ٹی وی دیکھنے، کھانے پینے یا ہاتھ ملانے کے دوران بھی بجلی پیدا کریں‘۔

یہ بھی پڑھیں: موبائل فون کی چارجنگ کے لیے سولر کوٹ تیار

اسے بھی پڑھیں: آئی فون کے نئے ماڈل سے دیگر ڈیوائسز کی مقناطیسی چارجنگ ممکن؟

انہوں نے بتایا کہ ویسے تو اس ڈیوائس کو جسم کے کسی بھی حصے کے ساتھ جوڑ کر بجلی بنائی جاسکتی ہے مگر انگلیوں کو بہترین انتخاب اس لیے قرار دیا گیا کیونکہ سب سے زیادہ پسینہ انگلیوں کے پوروں سے ہی نکلتا ہے۔

جوزف کا کہنا تھا کہ ’انگلی کے پوروں سے ایک منٹ میں چند مائیکر لیٹر پیسنہ رستا ہے، جس کی مدد سے 300 ملی جول فی مربع سینٹی میٹر بجلی بنائی جاسکتی ہے‘۔

رپورٹ کے مطابق اس ڈیوائس کو انگلیوں میں پہننے کے بعد وائی فائی یا بلیو ٹوتھ کی مدد سے موبائل چارج کرنا ممکن ہوگا۔

ابھی یہ ڈیوائس تجرباتی مراحل میں ہے، جسے کامیابی ملنے کے بعد منظوری کے لیے بھیجا جائے گا اور پھر امکان ہے کہ آئندہ برس تک اسے تمام صارفین کے لیے پیش کردیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں