The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں کشتی ڈوبنے سے 39 تارکین وطن لاپتا، کئی دن سے سراغ نہ لگ سکا

میامی: امریکی کوسٹ گارڈ کے امدادی کارکن فلوریڈا کے بحر اوقیانوس کے ساحل کے پانیوں میں لاپتا ہونے والے 39 افراد کی تلاش کر رہے ہیں، جن کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ اُس کشتی میں سوار تھے جو انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہو رہی تھی، اور الٹنے کے بعد کئی دنوں سے لاپتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست فلوریڈا میں کئی دن قبل سمندر میں ایک کشتی سمندر میں ڈوبنے سے 39 افراد لاپتا ہیں، جن کا سراغ تاحال نہیں لگ سکا، امریکی کوسٹ گارڈ ان کی مسلسل تلاش کر رہے ہیں۔

میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے ٹویٹر پر اطلاع دی کہ ایک مقامی مچھیرے نے منگل کو صبح سویرے کوسٹ گارڈ کو بتایا کہ ایک الٹنے والی کشتی کے ہُل سے چمٹے ہوئے ایک شخص کو فورٹ پیئرس کے قصبے سے تقریباً 72 کلومیٹر مشرق میں بچایا گیا ہے۔

کوسٹ گارڈ نے مزید کہا کہ زندہ بچ جانے والے نے حکام کو بتایا کہ وہ ہفتے کی رات 39 دیگر لوگوں کے ساتھ بہاماس کے بیمنی جزیروں سے نکلا تھا، اور انھوں نے لائف جیکٹس نہیں پہن رکھی تھیں، بدقسمتی سے ان کی کشتی خراب موسم کے باعث تباہ ہو گئی۔

حکام کے مطابق لاپتا افراد کی تلاش کے لیے بیمنی سے فورٹ پیئرس تک پھیلے ہوئے علاقے کی تلاش کے لیے کٹر جہاز اور ہوائی جہاز تعینات کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کشتی ’انسانی اسمگلنگ کے منصوبے‘ کا حصہ تھی۔

جہاز میں سوار افراد کی قومیت کا ابھی تک پتا نہیں چل سکا ہے، واضح رہے کہ تارکین وطن ایک طویل عرصے سے بہاماس کے جزائر کو امریکا تک پہنچنے کے لیے دروازے کے طور پر استعمال کرتے آ رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں