یورپین مائیگریشن فورم کا چوتھا اجلاس، تارکین وطن اور پناہ گزینوں‌ کے مسائل پر غور
The news is by your side.

Advertisement

یورپین مائیگریشن فورم کا چوتھا اجلاس، تارکین وطن اور پناہ گزینوں‌ کے مسائل پرغور

برسلز: یورپ میں تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے مسائل سے متعلق یورپی یونین کی اقتصادی و سماجی کمیٹی اور یورپین کمیشن کے محکمہ داخلہ کی جانب سے برسلز میں چوتھے يورپین مائگریشن فورم منعقد ہوا۔

اے آر وائی کے نمائندہ عامر سہروردی کے مطابق فورم میں ترقی پذیر ممالک سے یورپ آنے والے پناہ گزینوں اور ہنرمند افراد کی منتقلی کا جائزہ لیا گیا۔ یورپی ممالک کے وزراء سمیت معروف سیاسی و سماجی کارکنوں نے اجلاس میں شرکت کی۔ پاکستان کے معروف صحافی اظفر بخاری بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

فورم سے خطاب کرتے ہوئے اظفر بخاری کا کہنا تھا کہ یورپ میں غیرقانونی تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی آمد کو روکا نہیں جا سکتا، مستقبل میں یہ بحران  شدت اختیار کر سکتا ہے، سرحدوں کو بند کرکے تارکین وطن کی آمد کو روکا نہیں جاسکتا، دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے، ایسی پالیسیاں بنائیں، جن سے قانونی طور پر تارکین کی آمد کو روکنا ممکن ہو۔

شرکاء کے سوالات کے جواب میں اظفر بخاری کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو برس  میں یورپ نے پناہ گزینوں کے مسائل حل کرنے کے لیے مثبت اقدامات کیے، البتہ ابھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ یورپ کو لیبیا اور شام کے ہزاروں تارکین وطن کے ری سیٹلمنٹ کے وعدوں اور معاہدوں کو عملی شکل دینی ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن کی یلغار روکنے کے لیے ہنرمند افراد کی قانونی منتقلی کے راستے کھولنے ہوں گے، پاکستان یورپی ممالک کو ماہر ہنرمند افراد کی وسیع تعداد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

بلغاریا کے ڈپٹی وزیر برائے محنت اور سماجی بہبود لذر لاروف نے اجلاس کے دوران اظفر بخاری سے ملاقات کی، اظفر بخاری نے بلغارین وزیر کو تحریری طور پر پاکستان سے ہنرمند افراد کی فراہمی کی تجاویز پیش کیں۔ مذکورہ وزیر نے  تجاویز کو اپنی کابینہ سے منظور کرانے کا وعدہ کیا۔

یووروسٹیز کی پالیسی ڈائریکٹر سلویا گنزریلا نے اظفر بخاری کو یورپین ایر آف کلچرل ہیریٹیج 2018 پروگرام سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یورپ میں 2018 کو ثقافت سیاحت اور قومی ورثے کے سال کے طور پر منایا جارہا ہے۔


صدر ٹرمپ کی تارکین وطن کے حوالے سے مؤقف میں بڑی تبدیلی


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں