The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کی تاریخ کا بڑا سانحہ، اے پی ایس حملے کو 5 برس بیت گئے

کراچی: پاکستان کی تاریخ کے بڑے سانحے آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے کو پانچ برس بیت گئے، بزدل دشمنوں نے اسکول میں قیامت برپا کی، 132 ننھے طلبہ، 16 اساتذہ اور پرنسپل کو بے رحمی سے شہید کیا گیا۔

اس سانحے پر قوم کے زخم آج بھی تازہ ہیں، شہدا کے لواحقین آج بھی غم سے نڈھال ہیں، مگر حوصلے جوان ہیں، آج اس سانحے کی پورے ملک میں پانچویں برسی منائی جا رہی ہے، شہدا کی یاد میں جگہ جگہ فاتحہ خوانی کی گئی، کراچی اور لاہور میں شمعیں روشن کی گئیں۔

معصوم شہیدوں کی قربانیوں کو پاکستانی قوم نہیں بھول سکی، پانچویں برسی کے موقع پر کراچی کی سول سوسائٹی نے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا، جوہڑ موڑ پر شہریوں کی بڑی تعداد نے پھول نچھاور کیے اور شمعیں روشن کیں۔ قومی سانحے کی یاد میں ہر شخص آج بھی دل گرفتہ ہے، شمعیں روشن کرتے شرکا نے شہدا کی یاد میں شاعری بھی سنائی۔

سانحہ اے پی ایس کی پانچویں برسی کے موقع پر لاہور کے جیلانی پارک میں بھی سول سوسائٹی کی جانب سے شمعیں روشن کی گئیں اور فضا میں قندیلیں چھوڑی گئیں۔ تقریب میں بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور شہدائے اے پی ایس کے لیے دعا کی گئی۔ یہاں سول سوسائٹی کی جانب سے شہدائے آرمی پبلک سکول کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہر سال شمعیں روشن کی جاتی ہیں اور فضا میں قندیلیں بلند کی جاتی ہیں۔

آج سانحہ اے پی ایس کے شہدا کو سلام پیش کیا جا رہا ہے، پانچ سال پہلے آج ہی کے دن پھولوں کے شہر پشاور کو خون میں نہلا دیا گیا تھا، اسکول میں گھس کر دہشت گردوں نے گولہ بارود کی بارش کی، ابھی سورج طلوع ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں قیامت برپا کی گئی، اسکول کے عقبی حصے سے بموں اور آتشیں ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد اندر داخل ہوئے اور قتل وغارت کا بازار گرم کر دیا۔ معصوم طلبہ، پرنسپل اور اساتذہ کو بے رحمی سے شہید کیا گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں پاک فوج کے جوان اسکول پہنچ گئے اور ساتوں دہشت گردوں کو مار گرایا، اس کرب ناک دن کے اختتام پر پشاور کی ہر گلی سے جنازہ اٹھا، ڈیڑھ سو کے قریب شہادتوں نے پھولوں کے شہر کو آہوں اور سسکیوں میں ڈبو دیا۔

شہدا کے لواحقین اور پوری قوم اپنے پیاروں کو کھو دینے پر آج بھی سوگوار ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں