The news is by your side.

Advertisement

سندھ میں 50 اسکولوں کا منصوبہ چار سال بعد بھی التوا کا شکار

کراچی: صوبہ سندھ میں 2015 میں شروع ہونے والے تعلیمی منصوبے 4 سال بعد بھی التوا کا شکار ہیں، وزیرِ تعلیم نے بھی شعبے میں ابتری کا اعتراف کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں تعلیم کے شعبے کے ساتھ کھلواڑ جاری ہے، 2019 تک بھی محکمہ تعلیم سندھ میں 50 اسکولوں کا منصوبہ مکمل نہ کر سکا۔

سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے دور میں 25 کیمبرج اسکول بنانے کا فیصلہ ہوا تھا۔

وزیر تعلیم سندھ

صوبہ سندھ میں 25 کیمبرج اور 25 کمپری ہینسو اسکول بنائے جانے تھے، اسکولوں کی تعمیر مکمل کرنے کی بہ جائے محکمہ تعلیم نے منصوبے کا نام تبدیل کر دیا۔

سندھ میں تعلیمی شعبے میں ابتری کا اعتراف وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار شاہ نے بھی کر لیا۔

وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے دور میں 25 کیمبرج اسکول بنانے کا فیصلہ ہوا تھا، تاہم بعد میں کیمبرج اسکولوں کے منصوبے کا نام تبدیل کر دیا گیا۔

سید سردار شاہ نے کہا کہ کیمبرج اسکولوں کے قیام کی اسکیم 2015 میں شروع کی گئی تھی لیکن اب کیمبرج کی بہ جائے انگلش میڈیم اسکول بنائے جا رہے ہیں۔

سندھ کے وزیر تعلیم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی صرف 15 انگلش میڈیم اور 6 کمپری ہینسو اسکولوں کی تعمیرمکمل ہوئی ہے، 24 کمپری ہینسو اسکولوں کی تعمیر کی اسکیم ابھی مکمل نہیں ہو سکی۔

یہ بھی پڑھیں:  خورشیدشاہ نے نواز شریف کو سندھ میں علاج کی دعوت دے دی

وزیر تعلیم سردار شاہ نے بتایا کہ باقی کمپری ہینسو اسکولوں کی تعمیر 2020 تک مکمل ہوگی۔

یاد رہے کہ سندھ اسمبلی اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس میں پوچھا گیا تھا کہ سندھ کے ہر ضلع میں کیمبرج اسکولوں کا منصوبہ کب مکمل ہوگا، کیا نجی شعبے کی مدد سے کیمبرج اسکول چلائے جائیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں