The news is by your side.

سنسنان جزیرے پر پھنسنے والا شخص جو کوئلہ کھا کر زندہ رہا

کسی غیر آباد جزیرے پر جا نکلنا اور وہاں پھنس جانا فلموں کا موضوع تو ہوسکتا ہے، لیکن حقیقت میں بھی یہ واقعہ کئی افراد کے ساتھ پیش آسکتا ہے۔

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں بھی ایک شخص ایسی ہی صورتحال کا شکار ہوگیا جہاں وہ 5 دن تک لیموں اور کوئلہ کھا کر زندہ رہا۔

51 سالہ نیلسن نیڈی کا کہنا ہے کہ وہ ریو کے معروف ساحلی مقام پر گیا تھا جہاں وہ سمندر کے قریب ایک چٹان پر چڑھ کر سمندر کے نظارے دیکھ رہا تھا، جب اچانک ایک بڑی لہر چٹان سے ٹکرائی اور اسے بھی اپنے ساتھ بہا کر لے گئی۔

نیلسن کا کہنا ہے کہ وہ سمندر میں بہتا ہوا تقریباً 2 میل دور ایک سنسان اور غیر آباد جزیرے پر جا نکلا۔

اس کے مطابق وہاں اسے کسی کا چھوڑا ہوا خیمہ ملا جس میں پانی کی 2 بوتلیں موجود تھیں۔ رات اس نے ایک غار میں گزاری لیکن اس کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔

نیلسن کا کہنا ہے کہ اسے خیمے سے 2 لیموں ملے جو اس نے کھا لیے، دوسرے دن اس نے سمندر میں تیر کر واپس جانے کی کوشش کی لیکن سمندر کی تیز لہروں سے اسے مزید بھٹکنے کا خدشہ پیدا ہوا تو وہ واپس آگیا۔

اگلے دن لکڑی کے ایک تختے پر سوار ہو کر اس نے واپس جانے کی ایک اور کوشش کی لیکن اس میں بھی ناکام رہا۔

چوتھے دن اس نے بھوک سے بے حال ہو کر کوئلہ کھانے کی کوشش کی، نیلسن کے مطابق اس نے ایک بار کہیں بندروں کو کوئلہ چرا کر کھاتے ہوئے دیکھا تھا اور یہی سوچ کر اس نے بھی کوئلہ کھایا، لیکن اس سے اس کا حلق مزید خشک ہوگیا۔

نیلسن کا کہنا ہے کہ وہ پانچ دن تک سمندر کا نمکین پانی پیتا رہا۔

بالآخر پانچویں دن اسے وہاں چند جیٹ اسکائی کرتے ہوئی کچھ نوجوان دکھائی دیے جنہیں اس نے اپنی شرٹ کے ذریعے متوجہ کیا۔

فائر ڈپارٹمنٹ کے ایک ہیلی کاپٹر نے نیلسن کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا، جہاں چند معمولی زخموں کے علاج کے بعد اسے اسی روز فارغ کردیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں