The news is by your side.

Advertisement

سرعام کی ٹیم کا خفیہ آپریشن، کراچی کے ضلع وسطی کا اسسٹنٹ کمشنر بے نقاب

کراچی: اے آر وائی نیوز کے پروگرام سرعام کی ٹیم نے اسٹنگ آپریشن کر کے ضلعی وسطی کے علاقے ناظم آباد میں تعینات اسسٹنٹ کمشنر کی رشوت خوری کو بے نقاب کردیا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام سرعام کی ٹیم نے اطلاعات موصول ہونے کے بعد ضلع وسطی کے علاقے ناظم آباد میں تعینات اسسٹنٹ کمشنر اشتیاق منگنی کے خلاف انکوائری کی۔

جس میں یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ افسر دکانیں، ہوٹل اور شادی ہال کھلوانے کے لیے رقم طلب کررہا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام سرعامِ کی ٹیم نے اسسٹنٹ کمشنر سے رابطہ کیا اور شادی ہال کھولنے سمیت دیگر غیرقانونی کاموں کی اجازت کے حوالے سے گفتگو کی۔

اسسٹنٹ کمشنر نے دوران گفتگو انکشاف کیا کہ رشوت ادائیگی کے بعد وہ شادی ہال کھولوا سکتا ہے ، جہاں شادی سمیت دیگر تقریبات بنا خوف و خطر کی جاسکتی ہیں، کوئی چھاپہ بھی نہیں مارے گا کیونکہ کمشنر خود پہرے داری کرے گا۔

اشتیاق منگی نے رشوت کے عوض مخالفین کی دکانیں سیل کرنے اور پھر بھاری رقم حاصل کر کے انہیں دوبارہ کھولنے کی اجازت دینے سمیت غیر قانونی تعمیرات کے لیے بھی رقم حاصل کرنے کا انکشاف کیا۔

مزید پڑھیں: کراچی میں گورنرراج کا مطالبہ، حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم

اے آر وائی نیوز کی نشاندہی کے بعد اعلیٰ افسران نے اشتیاق منگی کو عہدے سے برطرف کر کے چیف سیکریٹری آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے کراچی میں تعینات تمام ڈپٹی کمشنرز کو ذمہ داری تفویض کی ہے، یہی وجہ ہے کہ ڈپٹی کمشنرز کی ٹیم خلاف ورزی پر نہ صرف چھاپہ مارتی ہے بلکہ دکانداروں پر جرمانے بھی عائد کرتی ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کرپٹ کمشنر کو بے نقاب کرنے پر اے آر وائی نیوز کی ٹیم کے کام کو شاندار انداز میں سراہا۔

یاد رہے کہ کراچی کے متعدد تاجر کئی بار یہ الزام عائد کرچکے ہیں کہ کرونا ایس او پیز کے نام سے بھاری رقم رشوت کے عوض طلب کی جاتی ہے اور پیسے نہ دینے کی صورت میں اُن کی دکان سیل کردی جاتی ہے۔ کراچی کی نمائندہ سیاسی جماعتوں نے بھی سرکاری افسران اور پولیس پر رشوت لینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں