The news is by your side.

Advertisement

رویے میں تبدیلی، اہلکاروں کے جسم پر کیمرے لگا دیے گئے

لاہور میں بدسلوکی کی روک تھام اور پولیس کے رویے کی تبدیلی کے لیے اہلکاروں کے جسم پر کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق محکمہ پولیس نے منصوبے پر کام شروع کرتے ہوئے چند ٹریفک وارڈنز اور ڈولفن اہلکاروں کو کیمرے فراہم کردیے، ابتدائی طور پر کیمرے آزمائشی بنیادوں پر لگائے گئے ہیں۔

ٹریفک وارڈنز کو دیے جانے والے کیمرے 13 گھنٹے لائیو لوکیشن کے ساتھ کام کرسکتے ہیں، ٹریفک وارڈن کی وردی کے درمیان اور ڈولفن اہلکاروں کے کندھے پر باڈی کیم لگائے گئے ہیں۔

کیمروں کو سیف سٹی سے مانیٹر کیا جائے گا جلد تمام اہلکاروں کو کیمرے لگا دیے جائیں گے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر کیمرے ٹرائل پر لگائے گئے ہیں، کیمرے 13 گھنٹے لائیو لوکیشن کے ساتھ کام کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں لاہور پولیس نے شہر میں جنسی ہراسگی پر رپورٹ میں کہا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں شہر میں جنسی ہراسگی کے 642 مقدمات درج ہوئے، جب کہ چودہ اگست کے بعد مجموعی طور پر واقعات میں تین سو فی صد اضافہ ہوا ہے۔

پولیس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 14 اگست سے قبل مقدمات کی تعداد 150 سے کم تھی، جنسی ہراسگی کے اگست میں 323، اور رواں ماہ 319 مقدمات درج ہوئے۔

پولیس حکام کے مطابق مقدمات 354،354 اے، 509 بی کی دفعات کے تحت درج کیے جا رہے ہیں، مقدمات میں شامل یہ دفعات ناقابل ضمانت ہیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ 110 مقدمات جھوٹے ثابت ہونے پر خارج ہو چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں