The news is by your side.

Advertisement

زیادہ دیرتک بیٹھنے کے نقصانات، ماہرین نے خبردار کردیا

طبی ماہرین  کا کہنا ہے کہ زیادہ دیر تک بیٹھنے کا عمل ڈپریشن اور یاسیت جیسی کیفیات پیدا کرتا ہے یا ان بیماریوں کی جانب سے منتقل کردیتا ہے۔

ایک سروے کے دوران یہ تحقیق کی گئی کورونا کے دوران اپریل سے جون تک جن افراد نے اپنا زیادہ تر وقت گھر میں بیٹھ کر گزارا تھا ان میں ڈپریشن کی علامات قدرے زیادہ دیکھی گئی تھیں۔

 تحقیق میں شامل آئیووا اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر جیکب میئر کا کہنا ہے کہ بیٹھے رہنا اور غیرسرگرمی سوچے سمجھے عمل کے بغیر ہوتا ہے اور اس کے دماغ پر اثرات ہوتے ہیں۔

مارچ 2020ء میں کورونا وبا کا عروج تھا اور لوگ گھروں تک محدود تھے۔ یہ بہترین موقع تھا کہ اس وقت لوگوں کے برتاؤ اور دماغ پر اس کے اثرات نوٹ کیے جائیں۔ اس لیے انہوں نے 50 امریکی ریاستوں کے 3000 افراد کا جائزہ لیا۔

سوال نامے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ کس طرح روز و شب گزار رہے ہیں اور کتنی دیر بیٹھے رہتے ہیں اور دماغی اور نفسیاتی طور پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟ یہ بھی پوچھا گیا کہ وبا سے پہلے ان کے معمولات کیسے تھے اور دماغی صحت کس طرح کی تھی؟

بعض افراد نے کہا کہ کووڈ 19 وبا کے فوری بعد شروع ہونے والی گھریلو قید کی الجھن اور دماغی صحت 8 ہفتوں میں درست ہوگئی کیونکہ انہوں نے معمولات کو بہتر بنایا تھا۔ اس کے بعد دوسری قسم کے لوگوں نے جب اپنے بیٹھنے کے معمولات بڑھائے تو وہ بحال نہ ہوسکے اور ڈپریشن کے گرداب میں چلے گئے۔

معلوم ہوا کہ امریکی جسمانی سرگرمی کی رہنما ہدایات جس میں ہفتے میں ڈھائی سے پانچ گھنٹے معتدل یا شدید درجے کی ورزش شامل ہے پر عمل کم ہوگیا۔ یعنی اس عمل میں 32 فیصد کمی دیکھی گئی۔ عین اسی دوران تمام شرکا نے ڈپریشن، تنہائی اور بے چینی کا اعتراف بھی کیا۔ یہ تمام تفصیلات ایک بین الاقوامی جرنل فرنٹیئرز ان سائیکائٹری میں شائع کی گئیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں