The news is by your side.

Advertisement

نوشین کاظمی کی موت کا واقعہ، کالج انتظامیہ کا پنکھے اتارنے کا فیصلہ

لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں طالبہ نوشین کاظمی کی پراسرار موت کے بعد ہاسٹل انتطامیہ نے انوکھا فیصلہ کرلیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج میں ہاسٹل میں ڈاکٹر نوشین کاظمی کی موت کے واقعے کے بعد کالج انتظامیہ نے ہاسٹل کے کمروں سے پنکھے اتارنے کا فیصلہ کرلیا۔

کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہاسٹلز کے کمروں سے چھت کے پنکھے اتار کر پیڈسٹل پنکھے فراہم کیے جائیں گے، کالج انتظامیہ نے فیصلہ ڈاکٹر نمرتا اور ڈاکٹر نوشین کاظمی کی لاشیں ملنے کے بعد کیا۔

واضح رہے کہ بے نظیر بھٹو یونیورسٹی انتظامیہ نے تحقیقات کے لئے پانچ رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔

طالبہ کے والد کا کہنا تھا کہ بیٹی صوم و صلوٰۃ کی پابند دین پر عمل کرنے والی تھی، خودکشی کا سوچ ہی نہیں سکتی۔

مزید پڑھیں: ’نوشین کاظمی خودکشی کا سوچ بھی نہیں سکتی‘ والد نے رپورٹ مسترد کردی

طالبہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بتایا گیا تھا کہ موت گلے میں پھندے کے باعث ہوئی، دونوں پھیپھڑوں میں خون کے نشانات ملے ہیں۔

خیال رہے کہ میڈیکل کے چوتھے سال کی طالبہ نوشین کی لاش چھ گھنٹے تک پنکھے سے لٹکی رہی، دروازہ توڑ کر لاش کو باہر نکالا گیا تھا، مبینہ طور پر لاش کے ساتھ پرچہ بھی ملا لکھا تھا اپنی مرضی سے خودکشی کررہی ہوں۔

یاد رہے کہ تین سال قبل اسی ہاسٹل میں آصفہ بھٹو ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتا کماری کی موت ایسے ہی پراسرار انداز میں ہوئی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں