The news is by your side.

معجزہ، انڈونیشیا زلزلے کے دو روز بعد ملبے سے چھ سالہ بچے کو زندہ نکال لیا گیا

انڈونیشیا میں آنے والے زلزلے کے دو روز بعد ایک چھ برس کے بچے کو ملبے کے نیچے سے معجزانہ طور پر زندہ نکالا گیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق انڈونیشیا کے مغربی جاوا کے قصبے سیانجور میں آنے والے زلزلے سے کم از کم 271 افراد ہلاک ہوئے، تاہم اب ایک بچے کو دو روز کے بعد خوراک اور پانی کے بغیر ملبے تلے دبے رہنے والے بچے کو معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا گیا ہے۔

مقامی رضاکار جیکسن نے بتایا کہ جب ہمیں اس بات کا احساس ہوا کہ زکا زندہ ہے تو مجھ سمیت وہاں پر موجود تمام لوگ رو پڑے، یہ بہت جذباتی منظر تھا کہ اور یہ ہمیں ایک معجزے کی طرح لگا تھا۔

ریسکیو ورکرز نے زکا کو سیانجور میں تباہ شدہ مکان کے ملبے سے نکالا، ریسکیو ورکرز نے نیلی رنگ شرٹ پہنے بچے کو ایک سوراخ کے ذریعے نکالا تو بچہ مطمئن دکھائی دے رہا تھا۔

مقامی رضاکار جیکسن نے بتایا کہ انہیں ملبے سے بچے کی والدہ کی لاش ریسکیو آپریشن کے دو گھنٹے بعد ملی تھی، بچہ اپنی دادی کی لاش کے پاس موجود تھا۔

مقامی رضاکار جیکسن نے بتایا کہ جب سے بطور رضاکار کام شروع کیا ہے، کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا یہ مناظر ہم سب کیلئے جذباتی کردینے والا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت بہت سے بچے اسکول یا اپنے گھروں میں موجود تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں