The news is by your side.

Advertisement

پیمرا کا سابق چیئرمین ابصار عالم کیخلاف ایکشن

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے سابق چیئرمین ابصار عالم کے خلاف ایکشن لے لیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پیمرا نے سابق چیئرمین ابصار عالم کو پوری تنخواہ واپس کرنے کی ہدایت کردی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے ابصار عالم کی چیئرمین پیمرا تقرری غیرقانونی قرار دی تھی۔

ابصار عالم دسمبر 2015 سے دسمبر 2017 تک چیئرمین پیمرا کے عہدے پر فائز رہے۔

انہوں نے بطور چیئرمین پیمرا 5 کروڑ 3 لاکھ سے زائد رقم تنخواہ کی مد میں لی تھی، پیمرا نے ہدایت کی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ابصار عالم تنخواہ وابس پریں۔

پیمرا کا کہنا ہے کہ ابصار عالم تقرری سے عدالتی فیصلے تک تنخواہ کا حق رکھنے کا قانونی جواز نہیں رکھتے۔

سابق چیئرمین پیمرا کو 25 کروڑ 3 لاکھ 66 ہزار روپے پیمرا کے اکاؤنٹ میں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین پیمرا ابصار عالم کی تعیناتی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت کو شفاف اور قانونی طریقہ کار کے مطابق نئے چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کا حکم دیا تھا۔

تین سال قبل ابصار عالم کی تعیناتی کے خلاف ایڈووکیٹ اظہر صدیقی کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سماعت کی۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ چیئرمین کی تعیناتی کے وقت پیمرا آرڈیننس 2002 کی خلاف ورزی کی گئی اور سیاسی بنیادوں پر ابصار عالم کی تقرری کی گئی۔

ہائیکورٹ میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت چیئرمین پیمرا ابصار عالم کو نواز رہی ہے۔ ابصار عالم کو صدر اور وزیر اعظم سے زیادہ تنخواہ دی جا رہی ہے، ان کو ملنے والی 15 لاکھ روپے تنخواہ اور لاکھوں روپے کی مراعات قوانین اور قواعد وضوابط کے خلاف ہیں۔

درخواست گزار کی جانب سے مزید کہا گیا کہ چییرمین پیمرا کے عہدے پر ابصار عالم کو نوازنے کے لیے ماسٹرز کے بجائے تعلیمی قابلیت کو گریجویشن کردیا گیا جو قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے، لہٰذا ان کی تعیناتی کالعدم قرار دی جائے۔

جسٹس شاہد کریم نے چند روز قبل محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ چیئرمین پیمرا کو میرٹ سے ہٹ کر تعینات کیا گیا۔ چیئرمین پیمرا کی تعیناتی شفاف طریقے سے نہیں ہوئی۔

عدالت نے چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں