The news is by your side.

Advertisement

جب اسکول کے درجنوں بچوں نے اڑن طشتری اترتے ہوئے دیکھی

اڑن طشتری اور خلائی مخلوق کے بارے میں دنیا میں ان گنت دعوے موجود ہیں، سینکڑوں افراد اڑن طشتریوں کو دیکھنے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔

ایسا ہی ایک دعویٰ ایک اسکول کے 62 بچوں نے بھی کیا تھا جس کے بعد ابلاغ عامہ میں ہلچل مچ گئی تھی۔

16 ستمبر 1994 کو افریقی ملک زمبابوے کے ایک اسکول کے 62 بچوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے اسکول کے باہر اڑن طشتری اتری ہے۔

بچوں کا کہنا تھا کہ ایک چپٹی جسامت کی شے ان کے اسکول کے باہر میدان میں آسمان سے اتری۔

اڑن طشتری کو دیکھنے کا دعویٰ اب تک مغرب میں تو بہت سے افراد نے کیا تھا لیکن افریقہ میں ایسا دعویٰ کم ہی سامنے آیا تھا چنانچہ بین الاقوامی میڈیا میں اسے خاصی مقبولیت ملی۔

اس واقعے پر ایک دستاویزی فلم ایریل فینامنن بھی بنائی گئی تھی جس میں کچھ بچوں کے انٹرویو کیے گئے۔

ماہرین کے مطابق اتنی زیادہ تعداد کے بچوں کا ایک ساتھ کسی غیر موجود شے کو دیکھنا ماس ہسٹیریا بھی ہوسکتا ہے جس میں ایک شخص دوسرے کا تصور سن کر اسے اپنا تصور خیال کرنے لگتا ہے۔

بچوں میں یہ کیفیت زیادہ ہوسکتی ہے۔

ماہرین آج تک اس واقعے کی کوئی توجیہہ پیش کرنے میں ناکام ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں