The news is by your side.

Advertisement

’کوئی پوچھے تو کہنا بلاول آیا تھا‘

وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی کا 3 اپریل کی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردِ عمل سامنے آگیا ہے۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ دیا کہ ڈپٹی اسپیکر کی 3 اپریل کی رولنگ اور قومی اسمبلی کو تحلیل کرنا آئین سے متصادم تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی بحال کردی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قومی اسپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس 9 اپریل کو بلائیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہفتے کو صبح 10 بجے کرائی جائے، صدر کی نگران حکومت کے احکامات کالعدم قرار دیے جاتے ہیں، تحریک عدم اعتماد منظور ہو جاتی ہے تو اسمبلی نئے وزیر اعظم کا انتخاب کرے۔

عدالت نے متقفہ فیصلے میں کہا کہ کسی ممبر کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکا نہیں جائے گا، تحریک عدم اعتماد ناکام ہو تو حکومت اپنے امور انجام دیتی رہے۔

عدالتی فیصلے پر پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بلاول بھٹو کے ساتھ مسکراتی ہوئی تصویر شیئر کی۔

سعید غنی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’کوئی پوچھے تو کہنا بلاول آیا تھا۔‘

اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری نے عدالتی فیصلہ آنے کے بعد ٹویٹر پر لکھا تھاکہ ’جمہوریت بہترین انتقام ہے، جئے بھٹو، جئے عوام، پاکستان زندہ باد۔‘

Comments

یہ بھی پڑھیں