The news is by your side.

Advertisement

”اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں کردار سے متعلق خود فیصلہ کرنا چاہیے“

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں کتنا کردار ہو انہیں خود اس متعلق فیصلہ کرنا چاہیے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ”دی رپورٹرز“ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان کی سیاست میں کردار ہے سب کو پتہ ہے، اسٹیبلشمنٹ سیاست میں کردار رکھتی ہے تو انہیں روکا تو نہیں جاسکتا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ملک میں حالات معمول کے مطابق ہوں گے تب ہی سیاست ہوگی، سیاسی جماعتوں کو بھی اس وقت اپنے کردار کو دیکھنا چاہیے، اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کو سوچنے کی ضرورت ہے، سری لنکا میں معاشی بحران تھا لیکن سیاسی نہیں تھا، پاکستان میں سیاسی بحران کی وجہ سے معاشی بحران آیا۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہمارے ہاں پاؤں سے آگے دیکھنے کی صلاحیت نہیں، پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اور اقدامات دیکھیں کیا ہو رہے ہیں، پاکستان کی بڑی جماعت کے لیڈر کو غدار قرار دے کر کیا پیغام دیں گے، موڈیز کی جانب سے ریٹنگ منفی کرنے سے قرضے مزید بڑھ جائیں گے۔

لانگ مارچ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈی چوک نہ جانے کی صورتحال کی عمران خان نے وضاحت کر دی، پی ٹی آئی کی غلطیاں ہیں کہ موجودہ حکومت دوبارہ قوم پر مسلط ہوگئی ہے، آئندہ 20 سال مریم نواز، بلاول بھٹو اور پھر ان کے بچے حکومت کریں گے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 5 مخصوص نشستوں کا نوٹی فکیشن کس بنیاد پر روک دیا، الیکشن کمیشن کی کوشش ہے کہ حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہیں، تناسب کے بگاڑ کے لیے الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کے حق میں فیصلہ دیا، آرٹیکل 224 کا ضمنی الیکشن سے کوئی تعلق ہی نہیں، الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 224 کو معطل ہی کر دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں