The news is by your side.

Advertisement

نئے سنیما گھر، پروڈکشن ہاؤسز فلم میوزیم پر انکم ٹیکس ختم

وفاقی وزیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل مالی سال 2022-23 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کررہے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی وزیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نئے سینما گھروں، پروڈکشن ہاؤسز، فلم میوزیم کے قیام پر 5 سال تک انکم ٹیکس کا استثنیٰ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ فلم اور ڈرامے کی ایکسپورٹ پر ٹیکس ریبیٹ دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلم سازوں کے لئے 5 سال تک ٹیکس ہولیڈے ہوگا جبکہ صنعتوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ فلم،ڈرامہ ایکسپورٹ پر ٹیکس ریبٹ اسکیم 10سال کیلئےہوگی، سینما اور فلم پروڈیوسز سے انکم ٹیکس نہیں لیا جائے گا،نیشنل فلم انسٹیٹیوٹ،اسٹوڈیواورپوسٹ فلم پروڈکشن فسیلٹی قائم ہوگی۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نیشنل فلم انسٹیٹیوٹ،اسٹوڈیو،پوسٹ فلم پروڈکشن کی لاگت 1ارب روپےہوگی،سینما،پروڈکشن ہاؤسز،فلم میوزیمز،پوسٹ پروڈکشن فسیلٹی کوکارپوریٹ کادرجہ ملےگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فارن فلم پروڈیوسرکو 70فیصد ریبیٹ کیلئےشوٹنگ پاکستان میں کرنےکی شرط عائد کی جائے گی اور ڈسٹری بیوٹرز، پروڈیوسرزپرعائد8فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جائے گا۔

 وزیر خزانہ کے مطابق فلم،ڈراموں کیلئےمشینری،آلات،سازوسامان کی درآمد پر5سال کسٹم ڈیوٹی ختم کی جائے گی اور نئی فلم ، ڈراموں کے لیے آلات منگوانے پر سیلز ٹیکس صفر اور انٹرٹیمنٹ ڈیوٹی ختم کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں