site
stats
اہم ترین

لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر ڈی جی آئی ایس آئی مقرر

اسلام آباد: پاک فوج کے چھ سینئر افسران کو میجر جنرل سے لیفٹنٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دیدی گئی ہے، جو آئندہ ماہ خالی ہونے والے کور کمانڈرز منگلا ، کراچی ، سندھ اور گوجرانوالہ سمیت ڈی جی آئی ایس آئی کی پوسٹوں پر تعینات ہوکر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے

میجر جنرل رضوان اختر کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کردیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق جن افسران کو ترقی دی گئی ہے، ان میں میجر جنرل رضوان اختر ، میجر جنرل میاں ہلال حسین ، میجر جنرل غیور محمد ، میجر جنرل نذیر احمد بٹ ، میجر جنرل نوید مختار اور میجر جنرل ہدائیت الرحمان شامل ہیں۔  جنرل رضوان اختر جی او سی جنوبی وزیرستان اور ڈی جی رینجرز سندھ خدمات انجام دے چکے ہیں اور اس وقت جی ایچ کیو میں فرائض انجام دے رہے تھے ۔

جنرل رضوان جلد لیفٹنٹ جنرل ظہیر الاسلام کی جگہ ڈی جی آئی ایس آئی کا چارج سنبھالیں گے ، جنرل میاں ہلال حسین جو ماضی میں صدر آصف علی زرداری کے ملٹری سیکرٹری ، ڈی جی رینجرز پنجاب اور ابھی ڈی جی ملٹری ٹریننگ فرائض انجام دے رہے تھے، وہ اب لیفٹنٹ جنرل طارق خان کی جگہ کور کمانڈر منگلا کا چارج سنبھالیں گے۔

میجر جنرل غیور محمود جو آئی جی ایف سی خیبر پختونخواہ اور اس وقت وائس چیف آف جنرل اسٹاف جی ایچ کیو فرائض انجام دے ہیں، وہ لیفٹنٹ جنرل سلیم نواز کی جگہ کور کمانڈر گو جرانوالہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

میجر جنرل نذیر احمد بٹ جو پاکستان ملٹری اکیڈیمی کاکول فرائض انجام دے رہے تھے ، انہیں آئی جی سی اینڈ آئی ٹی متعین کیا گیا ہے، میجر جنرل نوید مختار جو آئی ایس آئی میں ڈی جی انسداد دہشت گردی فرائض انجام دے رہے ہیں ، وہ لیفٹنٹ جنرل سجاد غنی کی جگہ کور کمانڈر کراچی فرائض انجام دیں گے ۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں چیف انسٹرکٹر بی ڈویژن خدمات انجام دینے والے میجر جنرل ہدایت الرحمان کو لیفٹنٹ جنرل خالد ربانی کی جگہ کور کمانڈر پشاور متعین کیا گیا ہے ۔

واضح رہے کہ آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کچھ روز قبل ہی ڈی جی رینجرز سندھ  کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوئے ہیں تاہم وہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام کی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top