The news is by your side.

’مجھے 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا، اب کہہ رہے ہیں وہ ظالمانہ قانون ہے‘

مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ مجھے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا اور اب کہہ رہے ہیں کہ وہ ظالمانہ قانون ہے۔

لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مجھ سے انتقام لیتے لیتے پاکستان کی معیشت کو بٹھا دیا، طشتری میں رکھ کر 5 ملین ڈالر پیش کیے گئے جس پر ایبسولوٹلی ناٹ کہا۔

نواز شریف نے کہا کہ عدالت کی طرف سے سزا ہوئی تو تمام مشکلات کے بعد بھی پاکستان آئے، میری آنکھوں کے سامنے مریم کو گرفتار کیا گیا، میری زندگی کے پانچ قیمتی سال ضائع کیے گئے، سوال یہ ہے کہ ایک جھوٹے کیس میں درجنوں پیشیاں کیوں بھگتیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا خود کشی کرلوں گا مگر نہیں کی، قوم دیکھ رہی ہے کب یہ خودکشی کریں گے، ان کی حرکتیں قوم کے سامنے آ رہی ہیں، ایک ایک چیز عیاں ہو رہی ہے، کون نہیں جانتا کہ یہ جعلی کیس تھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن تھا، پاکستان ایٹمی قوت بن چکا تھا اور اب معاشی قوت بننے جا رہا تھا، ہم بجلی لے کر آئے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا تھا، موٹرویز پر موٹرویز بن رہے تھے، پاکستان کے اندر دہشت گردی کو ہم نے ختم کیا اور پرامن ملک بنایا، ہماری خدمات تو ہر شعبے میں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں