The news is by your side.

شام : روزگار کیلئے یورپ جانے والے 70 تارکین وطن سمندر میں ڈوب گئے

دمشق : لبنان سے اچھے مستقبل کے لیے یورپ جانے والے تارکین وطن کی کشتی شام کے ساحل پر الٹ گئی جس کے نتیجے میں 70 افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے اطلاع دی ہے کہ شام کے ساحل کے قریب لبنان سے مختلف ملکوں کے تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 70 ہوگئی ہے۔

آبزرویٹری نے میڈیا کو بتایا کہ شام کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوبنے کےحادثے کے بعد ریسکیوآپریشن کے دوران کشتی میں سوار 23 افراد کو مرنے سے بچالیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لبنان سے 150 تارکین وطن کو لے کر یورپ جانے کی کوشش کے دوران کشتی شام کے ساحل پر الٹ گئی اور مسافر گہرے سمندر میں جاگرے۔

کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں نے سمندر میں سے 70 تارکین وطن کی لاشیں نکال لیں اور متعدد مسافر تاحال لاپتہ ہیں جب کہ دیگر کو بچالیا گیا جن میں سے 20 اسپتال میں زیر علاج ہیں اور 3 کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

یہ تارکین وطن دو روز قبل لبنان سے یورپ جانے کے لیے نکلے تھے، لبنان میں معاشی حالات کافی خراب ہیں اور حکومت نے بینکوں سے پیسہ نکلوانے پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

واضح رہے کہ لبنان میں بگڑتے ہوئے معاشی حالات کے سبب سمندری راستے سے بھاگنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے۔ ان کی منزل اکثر قبرص ہے، جو لبنان کے ساحل کے قریب واقع یورپی ملک ہے۔

اس کی شروعات فلسطینی اور شامی پناہ گزینوں سے ہوئی جنہوں نے نئی شروعات کی تلاش میں یہ خطرناک سفر طے کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں