The news is by your side.

Advertisement

لندن : 7 لاکھ سے زائد افراد نے بریگزٹ کے خلاف پٹیشن پر دستخط کردئیے

لندن : یورپی یونین سے برطانوی انخلاء کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن پر 7 لاکھ برطانوی شہریوں سے دستخط کردئیے۔

تفصیلات کے مطابق تین برس قبل ہونے والے ریفرنڈم کے تحت برطانیہ کو 29 مارچ کو یورپی یونین سے نکلنا تھا تاہم بریگزٹ اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے بریگزٹ معاہدہ مسترد کیے جانے کے باعث تاخیر کا شکار ہوتا نظر آرہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر ایک پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یورپی یونین سے انخلاء کا فیصلہ واپس لے اور یورپی یونین کا رکنیت باقی رکھے جس پر اب تک 7 لاکھ افراد دستخط کرچکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹیشن منگل کے روز وزیر اعظم تھریسامے کی تقریر کے بعد کچھ گھنٹوں بعد دائر کی گئی تھی، پٹیشن پر ہر منٹ میں ہزاروں افراد کی جانب سے دستخط کیے جارہے ہیں۔

تھریسامے نے برطانیہ کے قانون سازوں کی جانب سے مسلسل یورپی یونین سے انخلاء کے معاہدے کو مسلسل تین مرتبہ مسترد کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ حتمی فیصلہ کرلے۔

وزیر اعظم تھریسامے کا کہنا تھا کہ ہی بہت اہم گھڑی ہے جب ہم فیصلہ کرسکتے ہیں، جبکہ برطانوی عوام سے کہا کہ ’میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں‘۔

یورپی یونین کے سربراہوں نے برطانوی وزیر اعظم سے کہا ہے کہ ’ان کے پاس دو مہینے ہوں گے کہ وہ مرحلہ وار بریگزٹ کی تیاری کرسکیں لیکن اگر وہ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہیں تو برطانوی عوام کو یورپی یونین سے مایوس کن انخلاء کرنا پڑے گا‘۔

واضح رہے کہ سنہ 2016 میں 1 کروڑ 70 لاکھ افراد نے (51 فیصد) نے یورپی یونین سے انخلاء کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ 1 کروڑ 60 لاکھ افراد نے بریگزٹ کے خلاف ووٹنگ کی تھی۔

مزید پڑھیں : برطانوی وزیراعظم کا خط، یورپی یونین بریگزٹ میں تاخیر کے لیے راضی

یاد رہے کہ گزشتہ روز برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے بریگزٹ ڈیل میں تاخیر سے متعلق خط پر یورپی یونین نے رضامندی ظاہر کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یورپی یونین 22 مئی تک بریگزٹ میں تاخیر پر رضامند ہوگیا ہے، یو ای کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ سے ڈیل کی منظوری پر بریگزٹ 22 مئی تک ملتوی کریں گے۔

یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہنا تھا کہ ڈیل کی عدم منظوری پر 12 اپریل کو بریگزٹ پر عمل درآمد ہوگا۔

برطانوی وزیراعظم نے یورپی یونین کے آرٹیکل پچاس کے تحت اس بلاک سے اپنے اخراج کی طے شدہ مدت میں تیس جون تک کی توسیع کی درخواست کی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں