site
stats
عالمی خبریں

ناگاساکی پر امریکی ایٹمی حملے کے 71 سال مکمل

ٹوکیو: جاپان کے شہر ناگا ساکی پر امریکی ایٹمی حملے کو 71 برس بیت گئے، امریکہ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرایا تھا۔

ںاگاساکی پربم گرانے کی ویڈیو خبر کے آخر میں

دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے جاپان پر دو تاریخ ساز ایٹمی حملے کیے تھے جن کی زد میں آکردو لاکھ سے زائد افراد اپنی جان گنوا بیٹھے تھے اور اس سے دوگنی تعداد تابکاری سے متاثر ہوئی تھی۔

اگست 1945 میں جوہری بم گرانے کے بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورۂ ہیروشیما*

 امریکہ نے ناگا ساکی پر حملہ 9 اگست 1945 کو بی 29 طیارے کے ذریعے ایٹمی بم گرایا جس کا کوڈ نام ’فیٹ مین‘ رکھا گیا تھا، اس بم نے ناگاساکی میں قیامت برپا کردی اور جاپانی اعداد وشمار کے مطابق لگ بھگ 70 ہزار افراد اس حملے میں ہلاک ہوئے جن میں سے 23سے 28 ہزار افراد جاپانی امدادی کارکن تھے جبکہ ایک بڑی تعداد جبری مشقت کرنے والے کورین نژاد افراد کی بھی تھی۔
800px-Nagasakibomb

ناگاساکی پر بم حملے کے بعد پیدا ہونے والا دھویں کا بادل

اس حملے سے تین دن قبل جاپان ہی کے شہر ہیروشیما پر امریکہ نے ’لٹل بوائے‘ نامی ایٹم بم گرایا تھا جس سے پھیلنے والی تباہی کے نتیجے میں ایک لاکھ40 ہزار کے لگ بھگ افراد مارے گئے تھے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں جاپابی شہری ان دونوں حملوں میں تابکاری اور مہلک حملوں کا شکار ہوئے۔

naga

ناگاساکی میں ایٹمی حملے کی تباہ کاری کا ایک منظر

اس واقعے کے ٹھیک چھ دن بعد یعنی پندرہ اگست 2015 کو جاپانی افواج نے ہتھیار ڈالدیے اور دنیا کی تاریخ کی ہولناک ترین جنگ یعنی جنگِ عظیم دوئم اپنے منطقی انجام کو پہنچی۔

ناگاساکی شہر کے مئیر ’تومی ہی سا تاؤ‘نے امن کی یادگار پر آج کی دن کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اپنی اجتماعی ذہانت استعمال کرتے ہوئے اس بات کا ادراک کرنا چاہئے کہ یہ دنیا بغیر نیوکلیائی ہتھیاروں کے کیسی ہوگی؟۔

ddd

جاپان میں ایٹمی حملوں کی یاد میں تعمیر کی جانے والی امن یادگار

جاپان میں وہ افراد جن کے پاس ایٹمی حملوں میں بچ جانے کا سرٹیفیکٹ تھا انہیں’ ہباکشا‘ کہا جاتا ہے ، ان کی تعداد 174،080بتائی جاتی ہے اور ان کی اوسط عمر 80 برس ہے۔

ناگاساکی کی حکومت نے گزشتہ سال 3،487 ہباکشا افراد کے مرنے کی تصدیق کی ہے جس کے بعد ان بعد میں مرنے والوں کی تعداد 172،230ہوگئی ہیں یعنی اب اس دنیا میں اس واقعے کے عینی شاہد انتہائی قلیل تعداد میں بچے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top