The news is by your side.

Advertisement

افغانستان: پولیو ہیلتھ ورکرز پر قیامت ٹوٹ پڑی

کابل: افغانستان میں 8 پولیو ہیلتھ ورکرز کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کو اقوام متحدہ کے نمائندے نے شمالی افغانستان کے چار مختلف علاقوں میں آٹھ پولیو ہیلتھ ورکرز جن میں 4 خواتین بھی شامل تھیں، کے قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم قتل ہونے والے ورکرز کے اہل خانہ کے ساتھ گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔

ایلچی نے کہا کہ تشدد نے افغان حکام کو تخار اور قندوز میں گھر گھر پولیو ویکسینیشن مہم کو معطل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے، رپورٹ کے مطابق صوبہ تخار میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کے ایک رکن کو قتل کیا گیا، جب کہ قندوز شہر میں 4 افراد کو قتل کیا گیا، صوبہ قندوز کے ضلع امام صاحب میں بھی ایک سوشل موبلائزر اور 2 ویکسی نیٹرز کو جان سے مارا گیا۔

طالبان حکومت کا افغانستان میں اولین انسداد پولیو مہم کے آغاز کا فیصلہ

ان حملوں کے نتیجے میں 21 فروری 2022 کو شروع ہونے والی پولیو کے قطرے پلانے کی قومی مہم کو قندوز اور تخار صوبوں میں معطل کر دیا گیا ہے، جس سے ہزاروں بچے غیر محفوظ ہو گئے ہیں اور جان لیوا بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ سے جاری مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ بے حسی پر مبنی یہ بزدلانہ حملے بند ہونے چاہئیں، یہ ہر سطح پر ناقابل قبول ہیں، ہم طالبان حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر مجرموں کی نشان دہی کریں اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں