کراچی : اعلیٰ ثانوی بورڈ کراچی کرپشن کا گڑھ بن گیا، بڑوں کی کھینچا تانی میں طلباء کا مستقبل داؤ پر رہا۔
اعلیٰ ثانوری بورڈ کراچی کے چیئرمین اختر غوری نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ دور میں سالانہ نتائج چوبیس کروڑ روپے میں فروخت کیے جاتے تھے، تحقیقاتی ادارے انٹر بورڈ میں بدعنوانیوں سے متعلق تحقیقات کریں۔
اس سے قبل بورڈ کے ملازمین نے چیئرمین اختر غوری کے خلاف احتجاج کیا، ملازمین کا کہنا تھا کہ بورڈ انتظامیہ کا ملازمین کے ساتھ رویہ درست نہیں ہے۔
چیئرمین بورڈ کی جانب سے اقدام کے بعد کنٹرولر امتحانات پریس کانفرس میں چیئرمین انٹر بورڈ اختر غوری کے خلاف اہم انکشافات سامنے لے آئے، ناظم امتحانات عمران چشتی کا کہنا تھا کہ ان کی اجازت اور دستخط کے بغیر ہی درجنوں مارک شیٹیں جاری کی گئیں اور نمبروں میں ہیر پھیر کیلئے ملازمین کو چئرمین کی جانب سے دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔
چیئرمین بورڈ اورناظم امتحانات سمیت کچھ بڑوں کی آپسی چپقلش میں انٹر بورڈ آنے والے طلبا اور اساتذہ شدید مشکلات کا شکار ہیں، طلباء نے دونوں فریقین سے مطالبہ کیا کہ اپنے مسائل جلد از جلد حل کریں تاکہ طلبا کے مسئلے حل ہو سکیں۔