تازہ ترین

آئی ایم ایف کا پاکستان کو سخت مالیاتی نظم و ضبط یقینی بنانے کا مشورہ

ریاض: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سخت...

اسحاق ڈار ڈپٹی وزیراعظم مقرر

وزیرخارجہ اسحاق ڈار کو ڈپٹی وزیراعظم مقرر کر دیا...

جسٹس بابر ستار کے خلاف بے بنیاد سوشل میڈیا مہم پر ہائیکورٹ کا اعلامیہ جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس بابر ستار کی امریکی...

وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب، صدر اسلامی ترقیاتی بینک کی ملاقات

وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوسرے...

والدین کیسے پتہ چلا سکتے ہیں کہ ان کا بچہ نشے کا عادی ہوچکا ہے؟

کراچی: ملک بھر میں آئس کے نشے کے بڑھتے استعمال نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کے حوالے سے نہایت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کے مارننگ شو باخبر سویرا میں ماہر نفسیات ڈاکٹر معیز نے گفتگو کی اور نشے کی ہلاکت خیزی کے بارے میں بتایا۔

ڈاکٹر معیز نے بتایا کہ آئس کا نشہ آج کل بہت عام ہوگیا ہے اور کالجز اور جامعات کے باہر کھلے عام اسٹرابری کے نام سے بک رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کی صرف آئس کا نشہ ہی نہیں ہر قسم کا نشہ ہلاکت خیز ہے اور گھر کا صرف ایک شخص بھی اس میں مبتلا ہوجائے تو پورا خاندان اس سے متاثر ہوتا ہے۔

ڈاکٹر معیز کا کہنا تھا کہ نوجوان پہلی بار آئس کے نشے کو تفریحاً استعمال کرتے ہیں، اس کے بعد ان کے دماغ کی کیمسٹری تبدیل ہوتی ہے اور انہیں لطف محسوس ہوتا ہے۔ اس لطف کی وجہ سے وہ دوسری اور تیسری بار آئس کا نشہ کرتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں اس کی لت پڑ جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آج کل والدین کی مصروفیات بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے وہ بچوں پر نظر نہیں رکھ پاتے، یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ معلوم رکھا کریں کہ ان کے بچوں کی کس سے دوستی ہے اور اس کے دوستوں کے گھر والے کون ہیں۔

ڈاکٹر معیز نے بتایا کہ نشے کے عادی بچے کی نشانیاں بہت واضح ہوتی ہیں، سب سے پہلے وہ ارد گرد کے ماحول اور لوگوں سے کٹ کر تنہائی پسند ہوجاتا ہے۔

یہ بھی ایک نشانی ہے کہ اگر آپ کے والٹس اور جیبوں میں سے پیسے کم ہونے لگے ہیں تو آپ کو چوکنا ہونے کی ضرورت ہے، ایسے وقت میں والدین فوری طور پر معلوم کریں کہ ان کا بچہ کس قسم کی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔

ڈاکٹر معیز کا کہنا تھا کہ بعض افراد دماغی سرگرمی بڑھانے کے لیے بھی نشے کا استعمال کرتے ہیں لیکن یہ فائدہ وقتی ہوتا ہے، اس کے نقصانات نہایت طویل مدتی اور خطرناک ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اکثر اوقات بالغ اور بچے بھی حالات سے فرار کے لیے نشے میں پناہ ڈھونڈتے ہیں، ایسے لوگوں کی کاؤنسلنگ ہونی چاہیئے اور اس کے لیے ضروری ہے میڈیا آگاہی فراہم کرے۔

Comments

- Advertisement -