جمعرات, فروری 27, 2025
اشتہار

’نیب ہمارے دور میں بھی ہمارے ماتحت نہیں تھا‘: بانی PTI کے نیب ترامیم کیس میں دلائل مکمل

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نیب ترامیم کیس میں اپنے دلائل مکمل کر لیے جس کے بعد سپریم کورٹ نے حکومتی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس میں حکومتی اپیلوں پر سماعت ہوئی جس میں بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل سے بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہوئے اور اپنے دلائل مکمل کیے۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے بانی پی ٹی آئی سے استفسار کیا کہ کیا آپ ہمیں سن سکتے ہیں؟ کیا آپ کچھ کیس سے متعلق بات کرنا چاہتے ہیں؟ اس پر سابق وزیر اعظم نے جواب دیا کہ میں آپ کو سن سکتا ہوں، مجھے ایک چیز سمجھ نہیں آئی کہ آپ نے لکھا میں نے گزشتہ سماعت پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی، مجھے سمجھ نہیں آئی کون سی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی؟ میں نیب ترامیم کیس میں حکومتی اپیل کی مخالفت کرتا ہوں۔

اس پر قاضی فائز عیسیٰ نے انہیں ہدایت کی کہ آپ اپنے کیس پر رہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ترامیم ہوئیں تو میرا نقصان ہوگا، پونے 2 کروڑ روپے کی میری گھڑی 3 ارب روپے میں دکھائی گئی، میں کہتا ہوں نیب کا چیئرمین سپریم کورٹ تعینات کرے، مجھے 14 سال کی قید ہوگئی کہ میں نے توشہ خانہ تحفے کی قیمت کم لگائی، نیب ہمارے دور میں بھی ہمارے ماتحت نہیں تھا۔

انہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ حکومت اور اپوزیشن میں چیئرمین نیب پر اتفاق نہیں ہوتا تو تھرڈ امپائر تعینات کرتا ہے، نیب اس کے بعد تھرڈ امپائر کے ماتحت ہی رہتا ہے، برطانیہ میں جمہوری نظام اخلاقیات، قانون کی بالادستی اور احتساب پر ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آپ کیا کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ ترمیم کر سکتی ہے یا نہیں؟ بانی پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ فارم 47 والے ترمیم نہیں کر سکتے۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ پھر اسی طرف جا رہے جو کیسز زیر التوا ہیں۔

اس دوران جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ترامیم کالعدم کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، آپ نے میرا نوٹ نہیں پڑھا شاید، نیب سے متعلق آپ کے بیان کے بعد کیا باقی رہ گیا ہے؟ بانی پی ٹی آئی آپ کا نیب پر کیا اعتبار رہے گا؟ اس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میرے ساتھ 5 روز میں نیب نے جو کیا اس کے بعد کیا اعتبار ہوگا، میں اس وقت نیب کو بھگت رہا ہوں، نیب کو بہتر ہونا چاہیے، کرپشن کے خلاف ایک مخصوص ادارے کی ضرورت ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وزیر اعظم کو چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی کا معاملہ یاد کروایا جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں جیل میں ہی ہوں ترمیم بحال ہونے سے میری آسانی تو ہوگی ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جیل میں جا کر تو مزید میچورٹی آئی ہے۔ اس پر بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ 27 سال قبل بھی نظام کا یہی حال تھا جس کے باعث سیاست میں آیا، پراپرٹی لیکس میں بھی نام آ چکے ہیں پیسے ملک سے باہر جا رہے ہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی آپ کی باتیں مجھے بھی خوفزدہ کر رہی ہیں، حالات اتنے خطرناک ہیں تو ساتھی سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھ کر حل کریں، جب آگ لگی ہو تو نہیں دیکھتے پاک ہے یا ناپاک پہلے آپ آگ تو بجھائیں۔

اس پر سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں اروند کیجریوال کو آزاد اور سزا معطل کر کے انتخابات لڑنے دیا گیا، مجھے 5 دنوں میں ہی سزائیں دے کر انتخابات سے باہر کر دیا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تو سیاسی نظام کس نے بنانا تھا؟ ساتھ ہی جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے آپ جیل میں ہیں آپ سے لوگوں کی امیدیں ہیں۔ اس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں دل سے بات کروں تو ہم سب آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملک کو کچھ ہوا تو عدلیہ نہیں سیاستدان ذمہ دار ہوں گے، کچھ بھی ہوگیا تو ہمیں شکوہ آپ سے ہوگا، ہم آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں آپ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔

اس دوران جب بانی پی ٹی آئی نے سائفر کیس کا حوالہ دینا چاہا تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انہیں روک دیا اور کہا کہ سائفر کیس میں شاید اپیل ہمارے سامنے آئے۔ اس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں زیر التوا کیس کی بات نہیں کر رہا۔ اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارا یہی خدشہ تھا کہ زیر التوا کیس پر بات نہ کر دیں۔

جسٹس حسن اظہر نے کہا کہ آپ نے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر کیوں نیب بل کی مخالف نہیں کی؟ اس پر بانی پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ یہی وجہ بتانا چاہتا ہوں کہ حالات ایسے بن گئے تھے، شرح نمو 6 اعشاریہ 2 فیصد پر تھی، میری حکومت سازش کے تحت گرا دی گئی، پارلیمنٹ جا کر اسی سازشی حکومت کو جواب نہیں دے سکتا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی آپ دو مختلف باتیں کر رہے ہیں، ایک طرف احتساب کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف ایمنسٹی دیتے ہیں۔ اس پر سابق وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت آنے کے بعد بلیک اکانومی کو مین اسٹریم میں لانے کیلیے ایمنسٹی دی۔

اس دوران چیف جسٹس پاکستان نے فاروق ایچ نائیک کو بانی پی ٹی آئی کے سامنے کرتے ہوئے کہا کہ یہ رکن پارلیمنٹ ہیں دشمن نہیں پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں، ملک کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، ہم سیاسی بات نہیں کرنا چاہ رہے تھے مگر آپ کو روک نہیں رہے، ڈائیلاگ سے کئی چیزوں کا حل نکلتا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک آپ کی بھی ذمہ داری ہے، ہم بنیادی حقوق کے محافظ ہیں مگر آپ سیاستدان بھی احساس کریں۔ اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نیب نے ریکوڈک کیس میں 10 ارب ڈالر کی ریکوری کیسے لکھ دی۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ ہماری ان ڈائریکٹ ریکوری تھی۔ اس پرچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسی غلط دستاویز دائر کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس کریں گے، کہاں ہیں پراسیکیوٹر جنرل نیب کیسے یہ غلط دستاویز پیش کیں؟

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے نیب ترامیم کیس میں دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا۔

اہم ترین

مزید خبریں