بدھ, فروری 26, 2025
اشتہار

’اگر صرف باتوں کی چیمپئنز ٹرافی ہوتی تو ہم یقینی طور پر جیت جاتے‘

اشتہار

حیرت انگیز

پاکستان ٹیم کے چیمپئنز ٹرافی سے اخراج پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے بابر اعظم کو پلاسٹک کنگ اور شاہین شاہ کو پر کٹا شاہین کا خطاب مل گیا۔

پاکستان میزبان ملک اور دفاعی چیمپئن ہونے کے باوجود پہلے ہی راؤنڈ میں چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہو گیا۔ قومی ٹیم کی اس بدترین کارکردگی پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

اے آر وائی نیوز کے اسپورٹس پروگرام ہر لمحہ پرجوش میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار نجیب الحسنین نے کہا کہ پہلے بھی ٹیم میں گروپ بندیاں رہی ہیں لیکن کھلاڑی ملک کے لیے کھیلتے تھے، مگر آج ہماری ٹیم کے کھلاڑی ملک کے بجائے ذاتی ریکارڈز کے لیے کھیلتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری قوم بڑی معصوم ہے۔ ہم اسٹیڈیم بنانے کے چکر میں ٹیم بنانا بھول گئے۔ سب 6 ماہ سے کہہ رہے تھے کہ 29 سال بعد پاکستان آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کر رہا ہے لیکن میزبان ٹیم چھ دن میں بغیر کوئی میچ جیتے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی۔

نجیب الحسنین نے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں سب برباد ہو گیا لیکن پلاسٹک کا کنگ ٹھیک ہے، شاہین جس کے پر کٹے ہوئے ہیں وہ ٹھیک ہے اور آپ کا کپتان جس کی باتیں سنیں تو لگتا ہے کہ ’’باتوں کی اگر چیمپئنز ٹرافی ہوتی تو ہم غیر متنازع چیمپئن ہوتے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ کپتان کو ہر غلطی اور ہر چیز کا پتہ ہے۔ ہر میچ کے بعد وہ کہتے ہیں کہ اس نے غلط شاٹ کھیلا، اس نے برا کھیلا۔ ہم انشااللہ، ماشااللہ، الحمدللہ ہم جیت جائیں گے لیکن میرے بھائی غلطیاں درست کب کرو گے؟ پرفارمنس کب آئے گی؟ تین ورلڈ کپ ہوگئے ایک چیمپئنز ٹرافی اور نتیجہ وہی کا وہی ہے۔

 

نجیب الحسنین نے کہا کہ ٹورنامنٹ میں تو بنگلہ دیش کی ٹیم بھی ہماری ٹیم سے اچھا کھیلی اور بھارت سے مقابلہ نظر تو آیا۔ مجھے تو پاکستان کا بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں بھی کوئی چانس نظر نہیں آ رہا۔ اگر بارش کے باعث میچ منسوخ ہوا تو ایک پوائنٹ مل جائے گا اور ایسی ٹیم ایک پوائنٹ کی ہی مستحق ہے۔

’پہلے ہمیں پاکستان ٹیم سے ڈر لگتا تھا، اب وہ ڈر کر میدان میں آتی ہے‘

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں