کراچی : مصطفی عامر اغوا و قتل کیس میں تاوان کیلئے کال کرنیوالا کون تھا، پولیس پتہ نہ لگاسکی اور ملزم ارمغان نے تاوان کی کال کرنے کا اعتراف نہیں کیا۔
تفصیلات کے مطابق مصطفی عامر اغوا و قتل کیس میں 14 روز بعد بھی تاوان کیلئے کال کرنیوالا سامنے نہ آسکا۔
مبینہ اغوا کار سے تاوان کی ڈیل کے اسکرین شارٹ سامنے آگیا، تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ تاوان کی کال سےمتعلق مرکزی ملزم ارمغان سےتاحال تفتیش نہ ہوئی، ملزم ارمغان نے تاوان کی کال کرنے کا اعتراف نہیں کیا۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا تھا کہ ملزم ارمغان مختلف انٹرنیشنل نمبر استعمال کرتا تھا اور مصطفی عامر کے والد کو امریکی نمبر سے واٹس ایپ پر تاوان کی کال آئی تھی۔
مزید پڑھیں : قاتل سامنے آگیا ہے، تحقیقات سے مطمئن ہوں، والدہ مصطفیٰ عامر
مصطفی کی لاش 11 جنوری کو ملی اور تاوان کی کال 25جنوری کوموصول ہوئی ، شبہ ہےملزم ارمغان نےہی مصطفی کے والد کو تاوان کیلئے کال کی۔
یاد رہے مقتول مصطفیٰ عامر کی والدہ وجہیہ عامر نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا تھا 25 جنوری کو علی الصبح 4 بجے امریکا سے تاوان کی کالز آنا شروع ہوئیں، جس میں 2 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس وقت انہیں معلوم نہیں تھا کہ مصطفیٰ کو قتل کر دیا گیا ہے، اور وہ اسے زندہ تلاش کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ تاوان کی کالز کیس کو بھٹکانے کی کوشش تھیں۔ 27 جنوری کو دوبارہ تاوان کی کال آئی، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات تیز کیں، اور چند دنوں کے اندر ارمغان کو گرفتار کر لیا گیا۔