تہران: روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایران کے ہم منصب عباس عراقچی سے تہران میں ملاقات کی ہے۔
روئٹرز کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ سفارت کار نے منگل کو اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کے بعد کہا کہ ایران واشنگٹن کی طرف سے عائد دباؤ اور پابندیوں کے سامنے نہیں جھکے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا روسی وزیر خارجہ سے ایٹمی پروگرام پر بات ہوئی ہے، ایٹمی مذاکرات پر ایران کا مؤقف بالکل واضح ہے، امریکا سے براہ راست بات چیت نہیں ہوگی، ہم دباؤ، دھمکی یا پابندیوں میں مذاکرات نہیں کریں گے۔
اپنے ایک روزہ دورہ ایران کے موقع پر روسی وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ علاقائی اور دو طرفہ موضوعات پر تبادلہ خیال کیا، یہ دورہ امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی صنعت پر پابندیوں کے ایک نئے دور کے نفاذ کے ایک دن بعد ہوا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ دھمکی یا طاقت کی بجائے سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں، ایرانی ایٹمی پروگرام کا سفارتی حل اب بھی موجود ہے، جس کے لیے روس بھرپور کوشش کرے گا، اور ہم ایران کو پابندیوں کے باعث ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
حملے کا خدشہ، ایران کی جوہری تنصیبات کے حوالے سے برطانوی اخبار کا اہم انکشاف
واضح رہے کہ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے صرف ایک ماہ بعد ماسکو نے امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے بات چیت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، اور دوسری طرف ٹرمپ نے اس ماہ کے شروع میں ایران پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس میں ملک کی تیل کی برآمدات کو صفر تک پہنچانے کی کوششیں شامل ہیں۔
عراقچی نے لاوروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا جب تک اس طرح زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے گا، امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے، یاد رہے کہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کے مذہبی حکمرانوں کے ساتھ معاہدہ کرنا پسند کریں گے۔