گردوں میں پتھری بہت تکلیف کا باعث ہوتی ہے، اس سے نجات کیلیے گردوں کے مریض کو کچھ غذائیں لازمی کھانی چاہیئں اور کچھ سے پرہیز کرنا انتہائی ضروری ہے۔
گردے انسانی جسم کا بہت اہم عضو ہیں، ان کا کام خون کو صاف کرنا اور پیشاب بنانا ہے، اس کے علاوہ گردے کھائی جانے والی اشیاء سے زہریلے مادوں کے اخراج کا کام کرتے ہیں۔
لیکن جب یہ زہریلے مادے گردے سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل پاتے تو یہ آہستہ آہستہ جمع ہو کر پتھر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ پتھری گردوں کو ناکارہ بنا سکتی ہے۔
موجودہ دور میں گردے کی پتھری ایک عام مسئلہ بن چکی ہے، بہت چھوٹی سطح پر ہونے والا یہ مسئلہ عام طور پر لوگوں کو زیادہ پریشان نہیں کرتا لیکن بعض صورتوں میں گردوں کے مریض کیلیے یہ درد ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں لاکھوں افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں جبکہ ایسے مریضوں کی تعداد میں سالانہ 15 سے 20 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر گردوں کے مریض ان امراض کو نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن یہ ایک ایسی بیماری ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
گردوں کے افعال کو بہتر بنانے کیلیے ماہرین صحت مختلف طریقے بیان کرتے ہیں ان میں سرفہرست صحت بخش غذا کا ستعمال ہے۔
زیر نظر مضمون میں بیان کی گئی غذائیں کھانے اور کچھ غذاؤں سے پرہیز کرنے سے گردوں کا عمل بھرپور بنایا جا سکتا ہے اور گردے کے امراض سے بچا جاسکتا ہے۔
گوبھی
گوبھی کو فولک ایسڈ اور ریشے کا اچھا ذریعہ شمار کیا جاتا ہے۔ وٹامن سی ہونے کے سبب یہ انسانی جسم میں پیشاب کے نظام کی کارکردگی اچھی رکھتی ہے۔ گوبھی وٹامنوں سے بھرپور غذا شمار ہوتی ہے۔ اس میں سوڈیم، پوٹاشیم اور فاسفورس کا ارتکاز کم ہوتا ہے۔ یہ آلو کا ایک اچھا متبادل ہے۔
بند گوبھی
نباتیاتی کیمیائی مواد سے بھرپور بند گوبھی گردے کی صحت کے واسطے ایک بہترین غذا شمار ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں اس میں وٹامن بی 6، بی 12، کے، فولک ایسڈ اور غذائی ریشہ بھی پایا جاتا ہے۔
لہسن
لہسن میں سوڈیم، فاسفورس اور پوٹاشیم جیسے صحت بخش عناصر اور معدنیات پائے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی لہسن سوزش کے خلاف ایک بھرپور عامل شمار ہوتا ہے۔ اس سے خون میں کولسٹرول کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔ لہسن کھانے میں ڈالے جانے والے نمک کا اچھا متبادل ہے جو گردے کے مریضوں کے لیے کھانا ممنوع ہوتا ہے۔
پیاز
گردوں کے مریض کے لیے صحت بخش غذاؤں میں پیاز بھی شامل ہے۔ یہ نمک نہ ہونے کی صورت میں کھانے میں ذائقے کا اضافہ کرتی ہے۔ پیاز وٹامن بی، وٹامن سی اور میگنیشیم سے بھرپور ہوتی ہے جو آنتوں کی صحت بہتر بناتا ہے۔ پیاز میں موجود اینٹی آکسائیڈ مواد جسم سے زہریلے عناصر کو ختم کر کے گردے کو صاف کرتے ہیں۔ لہذا کچی یا پکی ہوئی پیاز ہر طرح سے گردے کی صحت برقرار رکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔
چقندر
چقندر کو طویل عرصے سے انسانی جسم میں خون کا بہاؤ منظم کرنے اور فشار خون کی سطح برقرار رکھنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ چقندر کی جڑیں وٹامن بی 6 اور وٹامن کے سے بھرپور ہوتی ہیں۔ یہ دونوں گردے کی کارکردگی اچھی بنانے میں کام آتے ہیں۔
مولی
مولی کو اینٹی آکسائیڈز مواد سے بھرپور سبزیوں میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ تاہم یہ پوٹاشیم اور فاسفورس کے کم تناسب کے سبب بھی امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔ تحقیقی مطالعوں سے ثابت ہو چکا ہے کہ مولی حیران کن طور پر گردے کی صحت کے لیے نہایت مفید ہے۔
کھیرا
تحقیقی مطالعوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ باقاعدگی کے ساتھ کھیرا کھانا انسانی جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار کم کرنے میں مدد گار ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں کھیرے سے گردے میں موجود چھوٹی پتھریاں بھی گھل کر ختم ہو سکتی ہیں۔
گردے کے مریض ان اشیاء سے پرہیز کریں
اگر آپ کو گردے کی پتھری ہے تو آپ کو اپنے پروٹین کی مقدار کو کم کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انڈے، دہی، چنے، مچھلی، چکن اور دالوں سے بنی غذائیں بھی نہ کھائیں۔
کولڈ ڈرنکس
مریض کو کولڈ ڈرنکس یا دیگر ٹھنڈے مشروبات نہیں پینے چاہئیں کیونکہ فاسفورک ایسڈ کولڈ ڈرنکس بنانے میں بڑی مقدار میں استعمال ہوتا ہے،اس سے پتھری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
نمک
پتھری کے مریض کو ضرورت سے زیادہ نمک کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ نمک میں سوڈیم ہوتا ہے اور جسم میں داخل ہونے کے بعد سوڈیم کیلشیم میں تبدیل ہو جاتا ہے، اس کی وجہ سے جسم میں پتھری بننا شروع ہوجاتی ہے۔
وٹامن سی
اگر آپ کے گردے میں پتھری ہے تو آپ کو وٹامن سی سے بھرپور غذاؤں سے مکمل پرہیز کرنا چاہئے۔ اس کے ساتھ پالک، بیر، خشک میوہ جات، بیج اور چائے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ان میں آکسیلیٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : مندرجہ بالا تحریر معالج کی عمومی رائے پر مبنی ہے، کسی بھی نسخے یا دوا کو ایک مستند معالج کے مشورے کا متبادل نہ سمجھا جائے۔