تل ابیب: اسرائیلی فوج نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں اپنی مکمل ناکامی کا اعتراف کرلیا۔
اسرائیل فوج کی جانب سے جاری کردہ ناکامیوں کی تفصیلات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل حماس سے متعلق بڑی غلط فہمی میں مبتلا تھا، اسرائیلی فوج نے حماس کے ارادوں کا غلط اندازہ لگایا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج اس گمان میں رہے کہ حماس حملہ نہیں کرسکتا، اسرائیلی فورسزنے حماس کی طاقت کو نظرانداز کیا اور اچانک حملے سے نمٹنے کیلئے تیاری نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق حماس کی جانب سے حملے سے چند گھنٹے سے پہلے اشارے بھی ملے کہ کچھ گڑ بڑ ہے، لیکن اسرائیلی فورسز نے کچھ نہیں کیا اور سات اکتوبر کی صبح تک میٹنگز کرتے رہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج یہ سمجھتی رہی کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس سرحدی باڑ خطرے کو روکنے کے لیے کافی ہوگی۔
خیال رہے کہ برسوں سے جاری اسرائیلی ظلم وستم کے ردعمل میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس سمیت دیگر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیل پر ہزاروں راکٹس فائر کیے اور سرحد پر قائم باڑ توڑ کر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی آبادیوں اور فوجیوں پر حملہ کیا۔
اس حملے کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوئے اور سیکڑوں اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو یرغمال بنا کر غزہ لایا گیا تھا۔
7 اکتوبر کے حملوں کو جواز بنا کر اسرائیل نے اگلے ہی دن سے غزہ کے شہریوں پر بدترین فضائی بمباری کا آغاز کیا اور ساتھ ہی کچھ دن بعد زمینی کارروائی بھی شروع کردی جو 19 جنوری 2025 کو ایک جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں رکی تاہم اسرائیلی فوج اب بھی غزہ کے اندر اسرائیلی سرحد کے قریب کچھ علاقوں میں موجود ہے۔