بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور نیشنل پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیا اور نے ملک میں فوری عام انتخابات کرانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
بنگلہ دیش کی معزول اور مفرور وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی سخت سیاسی حریف اور دو بار وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے والی خالدہ ضیا نے عبوری حکومت سے ملک میں فوری عام انتخابات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے لندن میں علاج کے لیے مقیم سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم خالدہ ضیا نے ملک میں کارکنوں اور پارٹی رہنماؤں سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر امید ہیں کہ محمد یونس کی سربراہی میں کام کرنے والی عبوری حکومت جلد اور بنیادی اصلاحیات کے بعد سب کے لیے قابل قبول الیکشن کرائے گی۔
بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیا جو 6 سال کے طویل عرصہ بعد پارٹی کارکنوں سے پہلا خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ فاشسٹ حکومت کو طلبا اور آپ کی تحریک کے نتیجے میں بھاگنا پڑا۔ اس وقت ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ رہنما پارٹی کو ملک اور تحریک دونوں کی قیادت کے لیے تیار کریں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ فاشسٹوں کے دوست اور اتحادی انقلاب کی کامیابیوں کو نقصان پہنچانے کے لیے سازشیں کر رہے ہیں۔ ہمیں ان سازشوں کو اپنے اندر اور بنگلہ دیش کے عوام میں ناقابل تنسیخ اتحاد قائم کرکے ناکام بنانا چاہیے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں ملک میں فوری عام انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ خراب ہوتی امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے لیے متحد ہو جائیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس طلبہ احتجاج کے نتیجے میں 16 سال سے مطلق العنان حکمران شیخ حسینہ واجد اپنا اقتدار اور ملک چھوڑ کر اپنے دوست ملک بھارت فرار ہوگئی تھیں اور اب تک وہیں مقیم ہیں۔
دوسری جانب حسینہ واجد کی معزولی کے بعد محمد یونس کی سربراہی میں قائم ہونے والی عبوری حکومت نے تمام سیاسی قیدیوں بشمول خالدہ ضیا کو رہا کر دیا تھا اور وہ اپنی رہائی کے بعد علاج کے لیے لندن چلی گئی تھیں۔
عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے ملک میں اصلاحات کے لیے کئی کمیشن قائم کیے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کا دارو مدار سیاسی جماعتوں پر ہے کہ وہ کس پر متفق ہوتے ہیں۔ جب کہ انہوں نے اس بات کی جانب سے اشارہ کیا تھا کہ انتخابات رواں برس 2025 کے آخر یا 2026 کے اوائل میں ہوں گے۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کے لیے بھارت سے مطالبہ کرچکی ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے وارنٹ بھی جاری کر دیے ہیں۔ ان پر کئی سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔