واشنگٹن: ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بار پھر فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس سے متعلق امریکی مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ حماس یرغمالیوں کو رہا کرے اور غیر مسلح ہو جائے۔
محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ حماس غزہ میں سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتی، غزہ میں جو ہو رہا ہے وہ حماس کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا نتیجہ ہے، انھوں نے حماس کو اسرائیل کی جانب سے الجزیرہ کے صحافی کے قتل کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا۔
پیر کو جب اسرائیلی حملوں میں الجزیرہ مبشر کے لیے کام کرنے والے صحافی حسام شبات سمیت 2 صحافیوں کی ہلاکت کے بارے میں پوچھا گیا تو ترجمان ٹیمی بروس نے کہا غزہ میں ہر ایک چیز جو ہو رہی ہے، اس کے لیے حماس ذمہ دار ہے۔
اس سوال پر کہ کیا صحافیوں کے قتل کو جنگی جرم قرار دیا جا سکتا ہے، ٹیمی بروس نے براہ راست جواب دینے سے انکار کر دیا، اور اس کی بجائے غزہ میں ہونے والے تمام واقعات کی ذمہ داری حماس پر عائد کر دی۔ انھوں نے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کا مزید اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اسرائیل کی ضرورتوں کے ساتھ کھڑا ہے کیوں کہ وہ اپنا دفاع کر رہا ہے۔
فلسطینیوں پر ہوئے مظالم کی عکاسی کرنے والا خود صیہونیوں کا نشانہ بن گیا
ٹیمی بروس کا یہ بھی کہنا تھا کہ غزہ کے لیے عرب منصوبہ ٹرمپ انتظامیہ کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے محصور غزہ پر الگ الگ فضائی حملوں میں مزید 2 فلسطینی صحافیوں کو شہید کر دیا ہے جس سے اکتوبر 2023 سے اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 208 ہو گئی ہے۔