سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں 82 سرکاری ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں کئی اہم اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کے ادارے ’نزاھہ‘ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا ہے کہ رواں ماہ مارچ کے دوران بدعنوانی کے الزام میں 82 سرکاری ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
نزاھہ کے مطابق ادارے کے حکام نے رواں ماہ کے دوران سرکاری دفاتر اور نجی اداروں کے ایک ہزار 453 تفتیشی دورے کیے اور 313 افراد کے خلاف الزامات کی تحقیقات کی گئی۔
جن اداروں کے دورے اور ملازمین کے خلاف تحقیقات کی گئیں۔ ان میں وزرت داخلہ، وزارت دفاع، وزارت صحت، وزارت افرادی قوت، وزارت بلدیات و ہاوسنگ، اور زکوۃ، ٹیکس، کسٹم اتھارٹی شامل ہیں۔
تحقیقات کے بعد 82 سرکاری ملازمین پر رشوت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات درست ثابت ہوئے جس کی وجہ انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سعودی انسداد بدعنوانی ادارے کا کہنا ہے کہ سرکاری اور نجی اداروں میں تفتیشی دورے جاری رکھے جائیں گے تاکہ کسی ایسے شخص کی نگرانی اور گرفتاری کی جا سکے جو عوامی فنڈز کا غبن یا اپنے ذاتی فائدے اور عوامی مفاد کو نقصان پہنچان کے لیے عہدے کا ناجائز استعمال کرتا ہے۔
بیان میں خبر دار کیا گیا کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو ملازمت کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی جوابدہ ٹہرایا جائے گا۔