غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے خون کی ہولی کھیلنے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث مزید 100 سے زائد فلسطینی جام شہادت نوش کرگئے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے فضائی حملے کرکے مزید 112 فلسطینیوں کو شہید کردیا۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں دار الارقم اسکول پر حملہ کیا جس میں بچوں اور خواتین سمیت 33 فلسطینی پناہ گزین جام شہادت نوش کرگئے۔ حماس نے غزہ میں دار الارقم اسکول پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملوں میں اب تک کم از کم 50 ہزار 523 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم سے جنگ بندی معاہدے پر واپس آنے کو کہا ہے۔
میکرون نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ میں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی امداد فوری طور پر دوبارہ شروع ہونی چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل پر زور دیا کہ وہ لبنان میں جنگ بندی کا احترام کرے۔
میکرون کا کہنا تھا کہ لبنان کے بارے میں، جمعہ کو لبنانی صدر کے ساتھ میری بات چیت اور اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ اس بات چیت کے بعد، ہم نے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان کا اقوام متحدہ سے غزہ پر خاموشی توڑ کر عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ
”لبنان کی خودمختاری کو مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے نگرانی کے طریقہ کار کو مضبوط کیا جانا چاہیے اس میں لبنانی سرزمین سے اسرائیل کا مکمل انخلا اور ہتھیاروں پر ریاست کی اجارہ داری کو بحال کرنے کے لیے حمایت شامل ہے“۔